خطبات محمود (جلد 38) — Page 223
$1957 223 خطبات محمود جلد نمبر 38 کیا۔اُس کی لڑکی کی نظر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی عزت اور عظمت تھی کہ اس نے یہ بھی پسند نہ کیا کہ جس چادر پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھتے تھے اس پر ابوسفیان بیٹھے۔پھر وہ دن بھی آ گیا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ والوں پر کامل فتح عطا فرمائی۔ابوسفیان جب اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوا بلکہ الٹا ذلیل ہوا تو وہ مکہ کی طرف دوڑا تا کہ مکہ والوں کو صورت حال سے باخبر کر دے۔مکہ والوں نے پھر آپس میں مشورہ کیا اور ابوسفیان سے کہا کہ وہ مکہ سے باہر نکل کر پتا تو لے کہ مسلمان کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ابوسفیان ایک منزل ہی باہر گیا تھا کہ اس نے سارا جنگل روشن پایا۔یہ آگ جو تمام خیموں کے آگے جلائی گئی تھی ایک ہیبت ناک نظارہ پیش کر رہی تھی۔حضرت عباس کی ابوسفیان سے پرانی دوستی تھی۔انہوں نے ابوسفیان کو دیکھ لیا اور اُسے آواز دے کر کہا سامنے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر خیمہ ڈالے پڑا ہے۔جلدی سے میرے پیچھے سواری پر بیٹھ جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو کیونکہ حضرت عباس ڈرتے تھے کہ حضرت عمرؓ پہرہ پر مقرر ہیں انہوں نے اسے دیکھ لیا تو وہ کہیں اسے قتل نہ کر دیں۔چنانچہ ابوسفیان حضرت عباس کے پیچھے بیٹھ گیا اور وہ سواری کو ایڑ لگا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاپہنچے اور ابوسفیان کو دھکا دے کر آگے کیا اور کہا کم بخت ! آگے بڑھ اور بیعت کر لے۔اُس وقت دہشت اور خوف کی وجہ سے ابوسفیان سخت مبہوت ہو چکا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا عباس! ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور رات کو اپنے پاس رکھو اور صبح میرے پاس لانا 10۔جب صبح وہ حضرت عباس کے ساتھ باہر نکلا تو نماز کا وقت تھا۔اُس نے دیکھا کہ ہزاروں مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہاتھ باندھے صف میں کھڑے ہیں۔جب آپ رکوع کرتے ہیں تو وہ سب کے سب رکوع کرتے ہیں، جب آپ سجدہ کرتے ہیں تو وہ سب کے سب آپ کے ساتھ سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔پھر آپ سجدے سے سر اٹھاتے ہیں تو وہ بھی آپ کے ساتھ سراٹھا لیتے ہیں۔پھر آپ سجدہ میں جاتے ہیں تو تمام لوگ آپ کے ساتھ سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔پھر تشہد میں بیٹھتے ہیں تو تمام لوگ آپ کے ساتھ تشہد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ابوسفیان نے یہ نظارہ دیکھا نی تو اُس نے خیال کیا کہ یہ سب کچھ اس کے مارنے کے لیے کیا جارہا ہے۔اُس نے حضرت عباس سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ عباس ! یہ کیا ہورہا ہے؟ کہیں میرے قتل کی تدبیر تو نہیں ہو رہی؟ حضرت عباس