خطبات محمود (جلد 38) — Page 224
$1957 224 خطبات محمود جلد نمبر 38 نے کہا کہ ابوسفیان ! تیری کیا حیثیت ہے کہ دس ہزار مسلمان تیرے لیے سازش کریں۔یہ تو نماز ہو رہی ہے۔ابوسفیان کہنے لگا عباس! میں نے کسری کا دربار بھی دیکھا ہے اور قیصر کا دربار بھی دیکھا ہے۔لیکن میں نے اُن کی رعیت کو بھی اس قسم کی اطاعت کرتے نہیں دیکھا جس قسم کی اطاعت یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی کر رہے ہیں۔11۔یہ لوگ تو سکے والوں کو کھا جائیں گے۔تم مجھے اجازت دو کہ میں واپس جا کر سکے والوں کو بتا دوں کہ کیا کچھ ہونے والا ہے تا کہ وہ اپنے بچاؤ کی کوئی صورت کر لیں۔پھر حضرت عباس اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ابوسفیان آپ سے کہنے لگا۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا یہ ہو سکتا ہے کہ کسی طرح مکہ والے بچ جائیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! جو شخص خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے گا وہ بچ جائے گا۔ابوسفیان نے کہا خانہ کعبہ تو بہت چھوٹی جگہ ہے وہاں سکے والے تو نہیں آ سکیں گے۔آپ نے فرمایا اچھا جو لوگ تیرے گھر میں داخل ہو جائیں گے وہ بھی بچائے جائیں گے۔ابوسفیان نے کہا يَا رَسُولَ الله ! میرا گھر بھی تو چھوٹا سا ہے وہاں بھی ہر شخص پناہ نہیں لے سکے گا۔آپ نے فرمایا جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لے گا اُسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا 12۔ابوسفیان نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اگر مکہ والوں کو وقت پر یہ خبر نہ مل سکی تو وہ اپنے اپنے گھروں میں کیسے پہنچ سکیں گے؟ اس کے علاوہ بھی کوئی رعایت ہونی چاہیے۔آپ نے ایک چادر منگوائی اور اُس کا ایک جھنڈ بنوایا اور فرمایا یہ بلال کا جھنڈا ہے۔آپ نے وہ جھنڈا حضرت بلال کے ایک انصاری بھائی کو دیا اور فرمایا جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے آ جائے گا اُسے بھی پناہ دی جائے گی۔13 شخص آپ کے اس حکم میں بھی ایک لطیف حکمت تھی۔مکہ والے حضرت بلال کے پاؤں میں رتی ڈال کر انہیں گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے۔وہ سخت تیز گرمی میں گرم ریت پر لٹا کر جوتوں سمیت اُن کے سینہ پر ناچتے اور گرم پتھروں پر انہیں گھیٹتے ہوئے کہتے تھے کہ کہو ایک خدا نہیں بلکہ بُت بھی خدا ہیں۔اس پر وہ کہتے اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ إِلَّا اللهُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ الله - 14 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ آج بلال کا دل انتقام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہوگا۔اگر میں نے انہیں معاف کر دیا تو وہ کہے گا کہ ماریں تو میں کھاتا رہا لیکن جب میرے انتقام کا وقت آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے والوں کو معاف کر دیا۔اس خیال کے آنے پر