خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 222

222 $1957 خطبات محمود جلد نمبر 38 تھا۔انہوں نے ابوسفیان سے کہا تو اب مدینہ میں جا اور مسلمانوں سے کہہ کہ اُس معاہدہ کے وقت چونکہ میں مکہ میں موجود نہیں تھا اس لیے وہ معاہدہ میری تصدیق کے ساتھ اب شروع ہوگا۔اور پھر دس سال کی میعاد بھی تھوڑی ہے اسے بھی بڑھا دیا جائے۔وہ مدینہ پہنچا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ملا اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ سے بھی ملا۔مگر کسی نے اُس کی طرف توجہ نہ کی۔آخر وہ حضرت علیؓ کے پاس گیا اور اُن سے مشورہ طلب کیا۔حضرت علیؓ نے مذاقاً کہا کہ تم مسجد میں جا کر یہ اعلان کر دو کہ میں چونکہ اپنی قوم کا سردار ہوں اور معاہدہ پر میرے دستخط نہیں اس لیے آج سے وہ معاہدہ کیا جاتا ہے اور اس کی اتنی مدت بھی بڑھائی جاتی ہے۔اُس نے اِس مذاق کو مان لیا اور مسجد میں سب کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کر دیا کہ مدینہ والو! تم نے ایسے لوگوں سے معاہدہ کر لیا تھا جن کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ذمہ داری میری ہے اور میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے چاہتا ہوں کہ معاہدہ کی مدت بھی بڑھ جائے اور میرے دستخط بھی ہو جائیں۔سو وہ معاہدہ آج سے شروع ہوتا ہے کیونکہ اب اس پر میری تصدیق ہے اور معاہدہ کی مدت بھی اتنی بڑھا دی گئی ہے۔اس اعلان پر سب صحابہ اس کی حماقت کی وجہ سے ہنس پڑے اور اس کو سخت ذلت محسوس ہوئی۔بعد میں وہ بڑے غصہ میں حضرت علی کو مخاطب کر کے کہنے لگا تم نے جان بوجھ کر مجھے ذلیل کروایا ہے اور تم لوگ ہمیشہ ہمار۔دشمن رہے ہو۔8 اس کے بعد وہ ناکام واپس چلا آیا۔اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کو ایک اور زک بھی پہنچائی۔اُس کی ایک لڑکی اُم حبیبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں۔ابو سفیان کو خیال آیا کہ مدینہ آیا ہوں تو اپنی لڑکی سے بھی مل وں۔چنانچہ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گیا۔حضرت اُمّ حبیبہ نے بستر پر ایک چارپائی بچھائی ہوئی تھی۔ابوسفیان اُس پر بیٹھنے لگا تو حضرت اُم حبیبہ نے وہ چادر جلدی سے اُس کے نیچے سے کھینچ لی۔ابوسفیان یہ دیکھ کر کہنے لگا کہ بیٹی ! کیا بات ہے؟ کیا یہ چادر اس قابل نہیں کہ تیرا باپ اس پر بیٹھ سکے یا میں اس قابل نہیں ہوں کہ میں اس پر بیٹھوں ؟ حضرت اُمّ حبیبہ نے کہا تم ہی اس قابل نہیں ہو کہ اس چادر پر بیٹھو۔ابوسفیان نے کہا بیٹی ! تم نے یہ کیا کہا؟ کیا میں تیرا باپ نہیں ہوں؟ حضرت اُم حبیبہ نے کہا یہ ٹھیک ہے کہ تم میرے باپ ہو لیکن اس کے باوجود میں یہ پسند نہیں کرتی کہ جس چادر پر خدا کا رسول بیٹھتا ہے اُس پر تم جو خدا اور اُس کے رسول کے دشمن ہو بیٹھو۔9 اب دیکھو ! جب نصر اللہ اور فتح کا زمانہ آیا تو کس طرح ابوسفیان کو خود اس کی لڑکی نے ذلیل