خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 121

1957ء 121 خطبات محمود جلد نمبر 38 مسجد میں ہوں گی مگر علاقہ کے لحاظ سے وہ مناسب ہوں گی کیونکہ چھوٹی چھوٹی جگہوں پر چھوٹی مسجد میں ہی مناسب ہوتی ہیں ۔ بہر حال جماعتوں میں مسجدیں بنانے کی طرف توجہ ہو رہی ہے اور غیر ملک تو بڑی جلدی جلدی آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن پاکستان اس کام میں ذرا پیچھے ہے۔ پاکستان بیرونی ممالک میں تو بعض بڑی بڑی مساجد بنا چکا ہے لیکن اپنے ملک میں مساجد بنانے کی طرف اس کی توجہ بہت کم ہے۔ بیرونی ممالک میں مساجد بنانے میں بڑی دقت یہی ہے کہ ہمیں ایکسچینج نہیں ملتا۔ اگر ایکسچینچ مل جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم اور بھی مسجدیں بنا سکتے ہیں۔ اِس وقت ہیمبرگ میں مسجد بن چکی ہے ،لندن میں بن چکی ہے ، ہیگ میں بن چکی ہے۔ اب نیورمبرگ (Nuremberg) میں بنانے کی تجویز یز ہے۔ ایکسچینج کے متعلق گورنمنٹ کو مولویوں کا کچھ ایسا ڈر ہے کہ اس نے ہمارے لیے کچھ ایچینچ منظور کیا تھا۔ ہمارا آدمی اُن کے پاس پہنچا اور اُس نے کہا ہمیں جو ایکسچینج آپ دیتے ہیں وہ بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ ہمارے مبلغ بہت زیادہ ہیں اور دوسری انجمنوں کے مبلغ بہت کم ہیں۔ ہمارے مبلغ اس وقت یورپ میں میں کے قریب ہیں اور ان کے صرف تین مبلغ ہیں۔ آپ مبلغوں کے اعتبار سے ایکسچینج تقسیم کریں۔ ان کے تین مبلغ ہیں انہیں تین مبلغوں کا حصہ دیا جائے اور ہمارے بیس مبلغ ہیں ہمیں ہیں مبلغوں کا حصہ دیا جائے ۔ انہوں نے کہا ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔ اگر ہم کریں تو ملک میں شور پڑ جائے گا۔ ہم آپ کو صرف تیسرا حصہ ہی دیں گے۔ چاہے آپ کے بیس مبلغ ہوں اور اُن کے تین مبلغ ہوں ۔ اگر ایکسچینج آسانی سے مل جائے تو میں سمجھتا ہوں اس ملک میں مسجدیں بنانے کے علاوہ ہمارے امراء کو باہر کے ممالک میں بھی مسجدیں بنانے کی توفیق مل جائے گی ۔ اس طرح میرے خیال میں باہر کے ممالک میں بھی ہیں پچھیں مسجدیں بن سکتی ہیں۔ ایکسچینج کی دقتیں دور ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ گورنمنٹ کے افسران کے دلوں سے مولویوں کا ڈر جاتا رہے اور وہ ہمیں ان ایکسچینج میں سے ہمارا مناسب حصہ دیں۔ دوسرے خدا تعالیٰ ہمارے ملک کی ایکسچینج کی حالت کو درست کر دے یعنی اس وقت جو وہ دوسرے ممالک کا مقروض ہے وہ حالت جاتی رہے اور اس کا غیر ممالک میں پونڈ کا ذخیرہ زیادہ ہو جائے اور اس طرح وہ ہمیں یہ افراط ایکھینچ دے سکے ۔ اگر یہ آسانی پیدا ہو جائے تو میرا اپنا خیال ہے کہ بارہ مساجد تو جرمنی میں ہی بنی چاہیں ۔ ہیمبرگ میں بن گئی ہے۔ پھر جب خدا تعالیٰ ایکسچینج دے گا