خطبات محمود (جلد 38) — Page 122
$1957 122 خطبات محمود جلد نمبر 38 تو نیورمبرگ میں بن جائے گی۔پھر جب خدا تعالیٰ اور ایکسچینج دے گا تو فرینکفورٹ (Frankfurt) میں یا ڈول ڈارف Dussel Darf) میں بن جائے گی۔یہ تین ہو جائیں گی۔پھر خدا تعالیٰ توفیق دے گا تو ہنور (Hanover) میں بن جائے گی۔پھر خدا تعالیٰ توفیق دے گا تو انز بروک (Innsbruck) میں بھی بن جائے گی۔پھر توفیق دے گا تو ایک منشن (Munchen) میں جسے میونچ (Munich) بھی کہتے ہیں بن جائے گی جہاں سے ہٹلر نکلا تھا۔یہ چھ ہو جائیں گی۔پھر تو فیق دے گا توکیل (Keil) میں بن جائے گی جو جرمن کا بڑا بھاری پورٹ (بندرگاہ) ہے۔یہ سات ہو جائیں گی۔ان کے علاوہ بون (Bons) بڑا شہر ہے جو جرمنی کا دارالخلافہ ہے۔پھر کولون (Cologne) بڑا شہر ہے۔انہیں ملا کر نو مساجد بن جاتی ہیں۔میں نے ایک دن رکنا تھا کہ صرف جرمنی میں دس بارہ مساجد کی ضرورت ہے۔اگر اتنی مساجد وہاں بن جائیں تو تھوڑے ہی عرصہ میں وہاں کئی ہزار مسلمان ہو جائیں۔جرمنی میں انگلستان اور دوسرے یورپین ممالک کے مقابلہ میں میں نے یہ خوبی دیکھی ہے کہ وہاں جو احمدی ہوتا ہے وہ چندہ بھی دیتا ہے۔یہ بات دوسرے ملکوں میں نہیں۔مثلاً سوئٹزر لینڈ میں دس دس سال سے بعض احمدی ہوئے ہیں لیکن وہ چندے نہیں دیتے۔لیکن جرمنی میں جب میں گیا تو ایک شخص مجھے ملنے آیا۔اب وہ فوت ہو گیا ہے۔اس کے پاس شراب کا ایک بڑا کارخانہ تھا جو اسے باپ کی طرف سے ورثہ میں ملا تھا۔اس نے مجھ سے فتویٰ پوچھا کہ میرے پاس شراب کا ایک کارخانہ ہے کیا میں اسے چھوڑ دوں؟ میں نے کہا وہ کارخانہ تم نے تو نہیں بنایا تمہارے باپ کی طرف سے ورثہ میں تم کو ملا ہے۔تم آہستہ آہستہ اس سے اپنا روپیہ نکالو اور اسے کسی اور کارخانہ میں لگاتے جاؤ۔فورانہ چھوڑو۔ہمارے مبلغ نے اس کے متعلق بتایا کہ وہ دو پونڈ ماہوار با قاعدہ چندہ دیتا ہے۔اب وہ فوت ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے وہاں پھر ایک نیا احمدی بنایا۔اس کے متعلق بھی اطلاع آئی ہے کہ وہ ایک پونڈ ماہوار چندہ دیتا ہے۔اب وہ یہاں اپنی بیوی سمیت آ رہا ہے اور اس نے لکھا ہے کہ وہ ایک اور احمدی دوست کے ساتھ ترکی اور ایران سے ہوتا ہوا پاکستان آئے گا۔شاید ستمبر میں وہ یہاں پہنچ جائے۔کہتے ہیں کہ اس کے اندر اتنا اخلاص ہے کہ آنے سے پہلے اُس نے اپنی جگہ پر انتظام کر دیا ہے کہ اُس کے دوست اور رشتہ دار اس کا باقاعدہ چندہ دیتے رہیں۔گویا وہ چھ ماہ کا عرصہ جو باہر رہے گا اس