خطبات محمود (جلد 38) — Page 116
خطبات محمود جلد نمبر 38 6 116 $1957 نیروبی میں ایک ممباسہ میں ایک، دار السلام میں ایک کمپالہ میں ایک ، ان کے علاوہ کئی اور چھوٹی چھوٹی مساجد بھی ہیں۔ویسٹ افریقہ میں بھی ہماری کئی مساجد ہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہاں شاندار مساجد بنانے کا رواج نہیں۔البتہ سالٹ پانڈ میں جہاں ہمارا گولڈ کوسٹ کا انچارج مبلغ رہتا ہے ہماری جو مسجد ہے وہ بہت بڑی اور شاندار ہے۔ملک کا وزیر اعظم اس کے افتتاح کی تقریب میں آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ جس قلیل رقم میں احمدیوں نے یہ مسجد بنالی ہے گورنمنٹ بھی نہیں بنا سکتی اور ایسی شاندار مسجد ہمارے سارے ملک میں کوئی نہیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے مبلغوں نے خود پاس کھڑے ہو کر کام کی نگرانی کی تھی اور مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کیا تھا اور ان سے کام کروایا تھا جس کی وجہ سے وہ مسجد بہت تھوڑی رقم میں بن گئی۔اب بعض اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ سیرالیون میں بھی بعض جگہوں پر مساجد بن رہی ہیں۔امریکہ سے بھی اطلاع آئی ہے کہ وہاں غالباً ڈیٹائیٹ میں ایک مسجد بن رہی ہے۔وہاں کوئی نومسلم جوڑا تھا۔انہوں نے اس مسجد کے لیے اپنی زمین دی تھی اور کچھ جائیداد بھی دی تھی کہ اسے فروخت کر کے مسجد کی تعمیر کر لی جائے۔کل اطلاع آئی ہے کہ یہ مسجد تکمیل کو پہنچنے والی ہے۔کاش! ہمارے ملک میں بھی لوگوں کو مساجد بنانے کا شوق ہوتا۔یہاں مساجد بنانے کا بہت کم شوق ہے۔اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملک کے چپہ چپہ پر پرانے بادشاہوں اور امراء نے اتنی مساجد بنادی ہیں کہ اب مسلمانوں کونئی مساجد تعمیر کرنے کا شوق نہیں رہا۔وہ مساجد کو ویران پڑا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں پہلی مساجد ہی ویران پڑی ہیں ہم اور کیا بنا ئیں۔حالانکہ ہماری جماعت کے سامنے یہ سوال نہیں۔ہمارے پاس جو پہلے مساجد تھیں وہ بھی لوگوں نے چھین لی ہیں۔مثلاًا لا ہور میں گمٹی والی مسجد احمدیوں سے چھین لی گئی۔بعد میں بڑی مصیبت سے قریشی محمد حسین صاحب مرحوم مفرح عنبری والوں نے احمدیوں سے پیسہ پیسہ چندہ جمع کر کے دہلی دروازہ کے باہر ایک مسجد بنوائی۔اب وہ مسجد بھی اتنی چھوٹی ہو گئی ہے کہ اس میں ساری جماعت ساتی نہیں۔بلکہ جب میں جایا کرتا تھا تو میں دیکھتا تھا کہ لوگوں نے دور دور تک سائیکل رکھے ہوئے ہوتے تھے اور دوست سڑکوں پر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔میں نے جماعت کو تحریک کی کہ اور مسجد بناؤ۔گو وہ مسجد ابھی تک بنی نہیں لیکن اس کے لیے زمین خرید لی گئی ہے۔اس کے ساتھ کچھ اور زمین بھی نکلی تھی جس کے خریدنے کے لیے صدر انجمن احمدیہ سے