خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 117

$1957 117 خطبات محمود جلد نمبر 38 کوئی سمجھوتا کیا جا رہا تھا کہ اس کے خریدنے کے لیے قرضہ دے دیا جائے لیکن معلوم ہوتا ہے وہ سمجھوتا ہوا نہیں کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی رپورٹ نہیں آئی۔مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں ہمارے ملک میں اب تک یہ مرض باقی ہے کہ جب تک شاہی مسجد کی طرح شاندار مسجد نہ ہو لوگ بناتے نہیں۔حالانکہ مسجد کے لیے تو ایک چھتر ہی کافی ہے۔اگر جماعت احمد یہ لاہور ایک چھتر ہی بنالیتی تو مسجد بن جاتی۔لیکن انہوں نے ابھی تک چھتر بھی نہیں بنایا۔امیر صاحب آہستہ آہستہ خطبات میں چندہ کی تحریک کرتے رہے اور روپیہ جمع کرتے رہے۔کل مجھے ایک دوست نے بتایا ہے کہ لاہور کے ایک دوست نے اس کے لیے بیس ہزار روپیہ چندہ دیا ہے۔اس دوست کے پاس جب کارکن چندہ لینے کے لیے گئے تو انہوں نے دریافت کیا کہ ان سے کس قدر رقم کی اُمید کی جاتی ہے؟ چندہ لینے والوں نے سمجھا کہ یہ امیر آدمی ہیں اگر ہم نے تھوڑا مانگا تب بھی جی غلطی ہوگی اور زیادہ مانگا تب بھی غلطی ہوگی۔آخر کار انہوں نے دس ہزار کی رقم طلب کی۔اس متمول احمدی دوست نے فوراً چیک بک نکالی اور بیس ہزار روپے کا چیک دے دیا اور کہا میری طرف سے اتنی رقم اس مد میں شامل کر لو۔ہمارے ملک میں یہ ایک مثال ملتی ہے کہ متمول لوگوں میں سے ایک دوست نے خاصی رقم مسجد کی تعمیر کے لیے دی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں ایسے بہت سے دوست ہیں جن کے لیے ایک وقت میں پندرہ پندرہ ، ہمیں نہیں ہزار روپیہ دینا کوئی مشکل امر نہیں۔اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ڈھا کہ، کراچی اور پنجاب میں ہیں تھیں تاجر ایسے ہیں جو ایک وقت میں پندرہ پندرہ ، بیس بیس ہزار چندہ دے سکتے ہیں اور سارے مل کر تین چار لاکھ روپیہ دے سکتے ہیں اور اس طرح بڑے بڑے شہروں میں مساجد بن سکتی ہیں۔یوں مقامی طور پر بھی اگر جماعتیں جدو جہد کریں تو اپنے اپنے مقامات پر مسجدیں بنا سکتیں ہیں۔چنانچہ راولپنڈی میں پچھلے فسادات یعنی 1953 ء میں لوگوں نے ہماری مسجد کو جلا دیا تھا۔بعد میں پتا لگا کہ مقامی جماعت نے قریبا سترہ ہزار روپیہ خرچ کر کے اسے دوبارہ تعمیر کرلیا ہے اور نئی مسجد کے لیے زمین بھی خرید لی ہے۔تو مقامی طور پر بھی لوگوں میں تحریک کی جائے تو ان میں بڑا جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ایک دفعہ میں اسی جگہ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک غریب بیوہ عورت کا لڑکا مجھے ملا۔یہ ولایت سے آنے کے بعد کی بات ہے۔اس نے مجھے دو سو روپیہ کے نوٹ دیئے اور کہا یہ رقم میری ماں نے