خطبات محمود (جلد 38) — Page 115
$1957 115 خطبات محمود جلد نمبر 38 ایک مسجد ممباسہ میں بنی ہے جس کا فوٹو ہے۔یہ مسجد ایک عورت نے بنوائی ہے جو بیوہ ہے۔اُس نے کی ساٹھ ہزار روپیہ اس کی تعمیر کے لیے دیا ہے۔یہ عورت ہمارے سابق امیر کی جواب فوت ہو چکے ہیں بیوہ ہے۔اس نے اپنی ساری پونچھی جو اُس کے خاوند نے اپنے بعد چھوڑی تھی اس سے ممباسہ کی مسجد بنوا دی ہے۔چونکہ مسجد پر اس سے زیادہ رقم خرچ ہوتی تھی اس لیے بعض اور احمدیوں نے بھی اپنا چندہ اس کی مد میں جمع کرایا اور بعض لوگوں نے قرضہ دے دیا۔اس طرح ممباسہ میں ایک بڑی عالی شان مسجد بن گئی۔پھر ان میں دار السلام کی مسجد کا فوٹو بھی ہے جو نئی بنی ہے۔یہ مسجد بھی لوکل احمد یوں نے مقامی طور پر چندہ جمع کر کے بنوائی ہے۔یہ بہت ہی شاندار مسجد ہے۔فوٹو بتاتا ہے کہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر انگریز، سکھ، ہندو اور عیسائی لوگ اس کے صحن میں بیٹھے شیخ مبارک احمد صاحب کی تقریرین رہے ہیں۔جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم اس مسجد کا افتتاح کرتے ہیں تا کہ اس میں خدا تعالیٰ کا نام لیا جائے۔ہمارے مبلغ امری عبیدی جو یہاں سے پڑھ کر گئے ہیں وہ بھی وہاں موجود ہیں۔شیخ مبارک احمد صاحب بھی فوٹو میں ہیں، مولوی محمد منور صاحب، مولوی محمد ابراہیم صاحب کمپالہ والے بھی ہیں۔غرض سارے مبلغ نظر آ رہے ہیں۔جو لوگ صحن میں بیٹھے ہوئے ہیں فوٹو سے ان کی تعداد سینکڑوں کی معلوم ہوتی ہے۔بہت سے لوگ تو کرسیوں پر بیٹھے ہیں اور بعض آدمی شوق سے زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور مسجد کی عمارت بڑی عالی شان نظر آ رہی ہے۔کل ایک خبر یہ بھی آئی ہے کہ کمپالہ میں بھی ایک مسجد تیار کی جا رہی ہے۔اس مسجد کے بننے میں دیر ہوئی تو میں نے مبلغ انچارج سے دریافت کیا تھا کہ یہ بنتی کیوں نہیں؟ جس کے جواب میں انہوں نے یہ اطلاع بھجوائی ہے کہ وہاں گورنمنٹ نے ایک قطعہ زمین مسجد کی تعمیر کے لیے احمدیوں کو دیا تھا اور حسب قاعدہ گورنمنٹ نے رسمی طور پر اس کی قیمت بھی طلب کی تھی۔وہ قیمت احمدیوں نے ادا کر دی تھی لیکن اس کے بنانے میں دیر ہوگئی تو جماعت کے دوستوں نے مجھے لکھا کہ یہ ٹکڑا زمین کا اچھی قیمت پر پک سکتا ہے۔اگر اجازت دیں تو اس کو بیچ کر کوئی اور قطعہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔میں نے کہا فروخت کر دو اور اس کی قیمت سے اور زمین لے کر مسجد بنا لو۔اب انہوں نے اطلاع دی ہے کہ مسجد کے لیے زمین مل گئی ہے اور نقشہ بنا کر پیش کر دیا گیا ہے۔منظوری کے بعد مسجد کی تعمیر شروع کر دی جائے گی۔یہ مسجد مل کر مشرقی افریقہ میں چار مشہور شہروں میں چار بڑی مساجد ہو جاتی ہیں۔