خطبات محمود (جلد 38)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 279

خطبات محمود (جلد 38) — Page 78

$1957 78 خطبات محمود جلد نمبر 38 بھیج دی۔یہ شخص جیسا کہ میں نے بتایا ہے اتنا متعصب تھا کہ اس مقدمہ سے چند دن پہلے اُس نے کہا تھا کہ قادیان میں ایک شخص نے مسیح کا دعوی کیا ہے اور اس طرح وہ ہمارے خدا کی ہتک کر رہا ہے۔اُس کو آج تک کسی نے پکڑا کیوں نہیں؟ جب مسل آئی تو مسل خواں نے کہا جناب والا ! یہ کیس وارنٹ کا نہیں بلکہ سمن کا کیس ہے اس لیے وارنٹ جاری نہیں کیا جا سکتا سمن بھیجا جا سکتا ہے۔اُن دنوں جلال الدین ایک انسپکٹر پولیس تھے جو احمدی تو نہیں تھے لیکن بڑے ہمدرد انسان تھے۔انہوں نے بھی ڈپٹی کمشنر کو توجہ دلائی کہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ وارنٹ جاری کیا جا رہا ہے۔یہ وارنٹ کا کیس نہیں سمن کا کیس ہے۔لہذا وارنٹ کی بجائے سمن بھیجنا چاہیے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام سمن جاری کیا گیا اور انہی جلال الدین صاحب کو اس کی تعمیل کرنے کے لیے قادیان بھیجا گیا۔چنانچہ بعد میں مقررہ تاریخ پر آپ بٹالہ حاضر ہوئے جہاں ڈپٹی کمشنر صاحب دورہ پر آئے ہوئے تھے۔جب آپ عدالت میں پہنچے تو وہی ڈپٹی کمشنر جس نے چند دن پہلے کہا تھا کہ یہ شخص خداوند یسوع کی ہتک کر رہا ہے اس کو کوئی پکڑتا کیوں نہیں؟ اُس نے آپ کا بہت اعزاز کیا اور عدالت میں گرسی پیش کی اور کہا آپ بیٹھے بیٹھے میری بات کا جواب دیں۔اس مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی بطور گواہ مدعی کی طرف سے پیش ہوئے۔عدالت کے باہر ایک بڑا ہجوم تھا اور لوگ بڑے شوق سے مقدمہ سننے کے لیے آئے ہوئے تھے۔جب مولوی محمد حسین صاحب عدالت میں پہنچے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کرسی پر بیٹھے دیکھا تو انہیں آگ لگ گئی۔وہ سمجھتے تھے کہ میں جاؤں گا تو عدالت میں مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی اور بڑی ذلت کی حالت میں وہ پولیس کے قبضہ میں ہوں گے۔اب دیکھو یہ مقدمہ ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں پیش ہوا تھا اور مدعی بھی ایک انگریز پادری تھا ( ڈاکٹر مارٹن کلارک کے متعلق مشہور تھا کہ وہ انگریز ہے لیکن در حقیقت وہ کسی پٹھانی کی نسل میں سے تھا جس نے ایک انگریز سے شادی کی ہوئی تھی) اور مولوی محمد حسین صاحب جیسے مشہور عالم بطور گواہ پیش ہو رہے تھے۔مگر پھر بھی دشمن ناکام و نامراد رہا اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا اعزاز کیا گیا وہاں آپ کے مخالفین کو ذلت و رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔مولوی محمد حسین صاحب نے جب دیکھا کہ آپ کو کرسی پیش کی گئی ہے تو انہوں نے کہا بڑی عجیب بات ہے کہ میں گواہ ہوں مگر مجھے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے اور مرزا صاحب ملزم ہیں مگر انہیں کرسی دی گئی ہے اور اس طرح ان کا -