خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 598

$1956 598 خطبات محمود جلد نمبر 37 کو بُرا بھلا کہنا نا جائز ہے کیونکہ نظام خدا تعالیٰ بنایا کرتا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ دنیا میں کسی کی محبت قائم کرے تو وہ پہلے جبریل سے کہتا ہے اور جبریل اپنے ماتحت فرشتوں سے کہتا ہے اور وہ ماتحت فرشتے اپنے ماتحت فرشتوں سے کہتے ہیں اور اس طرح ساری دنیا میں وہ بات پھیلا دیتے ہیں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ فَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِى الأَرضِ - 5- پھر ساری دنیا میں اس کی قبولیت پھیل جاتی ہے۔تو گویا نظام یا لوگوں کا کسی کے گرد جمع ہو جانا خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔خدا کے فضل کے بغیر نہیں ہوتا۔چاہے اس کی کوئی وجہ ہو، لیکن وہ وجہ بھی خدا تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے۔تو اس پیغامی کا یہ کہنا کہ میاں صاحب کو قبولیت اس لیے حاصل ہے کہ نظام ان کے ساتھ ہے اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہے اس لیے لوگ ان کے لا ارد گرد جمع ہو گئے ہیں۔اس سے کوئی پوچھے کہ اگر لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ جمع نہ ہوں تو کس کے ساتھ جمع ہوں؟ یہ لوگ تو خدا تعالیٰ کے دلدادہ ہیں۔جب ان کو پتا لگ گیا کہ خدا فلاں کے ساتھ ہے تو وہ اس کے اردگرد جمع ہو گئے۔گویا جدھر خدا ہو گا اُدھر ہی یہ بھی جائیں گے اور جس طرف خدا نہیں ہوگا اُس کو چھوڑ دیں گے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد ایک شخص ماموریت کا مدعی ہوا۔اُس نے بہت سے رسالے لکھے مگر میں نے اُن کا کبھی جواب نہیں دیا۔ایک دفعہ اس کی نے مجھے بڑے غصہ سے لکھا کہ تعجب کی بات ہے کہ آپ میری باتوں کا رڈ بھی نہیں کرتے۔آپ بیشک مجھے مرتد قرار دیں، کافر قرار دیں مگر میری باتوں کا جواب تو دیں۔یہ کیا تو وجہ ہے کہ مجھے آپ بُرا بھلا بھی نہیں کہتے ؟ میں نے اسے جواب دیا کہ تم نے سمجھا تھا کہ مرزا صاحب کو لوگوں کا بُرا بھلا کہنا کوئی دنیوی بات تھی حالانکہ وہ کوئی دنیوی بات نہیں تھی۔لوگوں نے اگر انہیں بُرا کہا تو اُن سے خدا تعالیٰ نے ہی بُرا کہلوایا تا کہ لوگوں کی توجہ آپ کی طرف ہو جائے۔تو بُرا کہنا بھی کسی کے اختیار میں نہیں۔صرف خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔تو تو میری منتیں کرتا ہے کہ میں تمہیں بُرا کہوں۔لیکن مرزا صاحب نے کسی سے بھی یہ نہیں کہا تھا کہ کوئی انہیں بُرا کہے۔دنیا انہیں خود بخود بُرا کہنے لگ گئی اور یہ مخالفت خدا تعالیٰ کی طرف