خطبات محمود (جلد 37) — Page 599
$1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 599 سے تھی۔اس لیے کہ جب لوگ کسی کو بُرا کہتے ہیں تو لوگوں کی اُس کی طرف توجہ جاتی ہے۔ہو ایک دفعہ ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آیا۔حضرت سیح موعود علیہ السلام نے اُس سے دریافت فرمایا کہ آپ کو احمدیت قبول کرنے کا خیال کیسے پیدا ہوا؟ وہ کہنے لگا مجھے احمدیت قبول کرنے کا خیال مولوی ثناء اللہ صاحب کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا یہ کیسے؟ اُس نے کہا مولوی ثناء اللہ صاحب نے آپ کو بڑی گالیاں دی ہیں اور آپ کو بُرا بھلا کہا ہے۔ایک دن کسی نے میرے سامنے در مشین کے بعض اشعار پڑھے تو میں نے خیال کیا کہ اگر ان شعروں میں کوئی شخص کسی کو گالیاں دیتا ہے تو وہ ضرور سچا ہو گا۔اس لیے میں نے آپ کی بیعت کر لی کیونکہ میں نے سمجھا کہ ان شعروں کی وجہ سے تو شعر کہنے والے کی تعریف کرنی چاہیے تھی نہ کہ اس کی مذمت۔اگر ان شعروں خص کسی کو گالیاں ملتی ہیں تو وہ صرف اس وجہ سے ملتی ہیں کہ شیطان محسوس کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے۔اس لیے وہ اپنی جان بچانے کے لیے اسے مارنا چاہتا ہے۔تو ایسی مخالفت بھی جس کی وجہ سے لوگوں کو توجہ پیدا ہو محض خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک مخالفت ایسی بھی ہوا کرتی ہے جس سے تباہی ہوتی ہے۔وہی مخالفت خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں جتھا مضبوط ہو اور طاقت حاصل ہو۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت ہوئی اور اس کے نتیجہ میں ہزاروں اور لاکھوں کی جماعت آئی۔پھر میری مخالفت ہوئی تو لاکھوں کی جماعت میرے اردگرد جمع ہو گئی۔اگر اس مخالفت کے بعد لاکھوں لوگ میرے ارد گرد جمع نہ ہوتے تو یہ سمجھاتی جاتا کہ یہ مخالفت خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔لیکن اس مخالفت کے بعد لاکھوں لوگ میرے اردگرد جمع ہو گئے۔جس سے معلوم ہوا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی اور خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس کے نتیجہ میں میری طرف لوگوں کو توجہ پیدا ہو۔یہی وجہ تھی کہ اس کا نتیجہ ہمارے حق میں اچھا نکلا۔غرض مخالفت اگر مزید طاقت پیدا کرتی ہے اور اس کا نتیجہ نظام کی مضبوطی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور بابرکت ہوتی ہے۔