خطبات محمود (جلد 37) — Page 597
$1956 597 خطبات محمود جلد نمبر 37 اہل حدیث کی مسجد میں اپنے دوستوں میں بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے۔دیکھو! مرزا صاحب کا پہلوان نورالدین آیا۔ادھر میں اہلِ حدیث کا پہلوان کھڑا ہوا، ہماری بحث ہوئی۔میں نے کہا حدیث ، اس نے کہا قرآن۔میں نے کہا حدیث، اُس نے کہا قرآن۔اور دونوں اسی پر اصرار کرتے رہے۔آخر میں نے اُسے یوں پنچا اور یوں رگیدا اور اس طرح گرا یا کہ اسے ماننا پڑا او اور کہنے لگا کہ بخاری بھی پیش کر سکتے ہو۔اتنے میں میاں نظام الدین صاحب جا پہنچے اور کہنے لگے جانے دو نورالدین کو۔میں تو مرزا غلام احمد کو بھی جو اُن کے سردار ہیں منوا آیا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کیا منوا آئے ہو؟ میاں نظام الدین صاحب نے کہا لکھوا مرزا صاحب تو کہتے تھے کہ ایک آیت ہی کافی ہے لیکن میں کہہ آیا ہوں کہ میں دس آیات کا کر لا دیتا ہوں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر تم قرآن سے ایسی آیتیں نکلوا لاؤ تو میں اپنے عقیدہ سے تو بہ کر لوں گا۔اس لیے آپ مجھے جلدی سے حیات مسیح کی دس آیات لکھ دیں۔مولوی محمد حسین صاحب تو فخر کر رہے تھے کہ میں نے مولوی نورالدین کو پٹھا اور یوں پچھاڑا اور یوں دلیلیں دیں اور آخر وہ حدیث کی طرف آگئے۔میاں نظام دین صاحب کی بات سن کر انہیں غصہ آ گیا اور وہ کہنے لگے بیوقوف پاگل کہیں کا۔میں مہینہ بھر نورالدین کے ساتھ بحث کرتا رہا اور آخر کار اُسے اس طرف لایا کہ حدیث پیش کی جائے گی اور تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی کا یہ فقرہ میاں نظام الدین صاحب کو اس طرح چُھا کہ وہ اُسی وقت کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اچھا مولوی صاحب! پھر جدھر قرآن اُدھر میں۔اگر قرآن مرزا صاحب کے ساتھ ہے تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں۔اور یہ کہہ کر وہ واپس آگئے اور قادیان آ کر بیعت کر لی۔پس قرآن کہتا ہے کہ نظام خدا تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ تیرے ساتھ نظام ہے مگر یہ نظام تیرے ساتھ تیری وجہ سے نہیں بلکہ ہماری وجہ سے ہے۔ہم نے تیری طبیعت کو ایسا بنایا ہے کہ لوگ تیری طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں۔اگر ہم تیری طبیعت کو ایسا نہ بناتے تو اتنا جتھا تیرے ساتھ نہ ہوتا جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ دہر کو گالی نہ دو۔4 اسی طرح اس آیت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نظام