خطبات محمود (جلد 37) — Page 508
$1956 508 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہوں گے تو وہ خیال کریں گے کہ یہ انسان نہیں بلکہ ہاتھی کی طرح کا کوئی جانور ہے۔اگر اُس کے کئی سر ہوں گے تو وہ کہیں گے یہ انسان نہیں بلکہ کوئی مجیب الخلقت حیوان ہے۔اور اگر کئی کئی آنکھیں ہوں گی تو وہ کہیں گے کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی نئی قسم کا سانپ ہے اور وہ اس سے ڈر کر بھاگ جائیں گے۔پھر میں بتاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی کئی ناک، کان اور آنکھیں ہونے کی فلاسفی بھی بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ ان مصلحین کی فی الواقع اس قسم کی شکلیں تھیں بلکہ اگر تصویر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کسی مصلح کے کئی ناک تھے تو اس کا یہ مطلب تھا کہ اُن میں اس قدر قوت شامہ پائی جاتی تھی کہ وہ دور سے عیب روحانی کو سونگھ لیتے تھے۔اور جب اُن کے بڑے بڑے کان دکھائے جاتے تھے تو اس کا مطلب ہوتا تھا کہ وہ دور سے فریادیوں کی فریاد سن لیتے تھے اور اُن کی ضرورت کو پہچان لیتے اور جب ان کی کئی آنکھیں دکھائی جاتی تھیں تو اس کا یہ مطلب ہوتا تھا کہ وہ حقیقت کو ہت جلد پہچان لیتے تھے۔اسی طرح تصویری زبان میں کئی کئی ہاتھ بنانے کا یہ مطلب تھا کہ اس مصلح کے پاس ایسے دلائل و براہین تھے کہ ان سے دشمن مبہوت ہو جاتا تھا۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ہی قرآن کریم میں آتا ہے کہ فَبُهِتَ الَّذِى كَفَرَ 5 کافر اُن کے دلائل و براہین سے مبہوت ہو گیا۔غرض خواب میں میں اُس ہندو کو مثالیں دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ چودھری اسد اللہ خاں صاحب تو صرف خلاصہ بیان کر رہے ہیں اس لیے انہوں نے مثالیں بیان نہیں کیں۔اس پر وہ ہندو خاموش ہو گیا۔اس رؤیا سے میں سمجھتا ہوں کہ کسی زمانہ میں خدا تعالیٰ ہندوؤں میں بھی تبلیغ اسلام کا رستہ کھول دے گا۔وہ لوگ اس قسم کے دیوتاؤں کے قائل ہیں جن کے کئی کئی ہاتھ ، کئی کئی ناک اور کئی کئی آنکھیں ہوتی تھیں لیکن ایک وقت آئے گا کہ خدا تعالیٰ ان پر یہ حقیقت کھول دے گا کہ وہ دیوتا بھی ہمارے جیسے انسان ہی تھے۔صرف اُن کی روحانی طاقتوں کو تصویری زبان میں اس طرح دکھایا گیا ہے کہ گویا اُن کے کئی کئی ہاتھ تھے، کئی کئی سر تھے، کئی کئی آنکھیں اور کئی کئی ناک تھے اور یہ روحانی طاقتیں سب بزرگوں کو دی گئی ہیں۔