خطبات محمود (جلد 37) — Page 509
$1956 509 خطبات محمود جلد نمبر 37 حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج ، حضرت نظام الدین صاحب اولیاء اور حضرت معین الدین صاحب چشتی کو بھی یہ روحانی طاقتیں دی گئی تھیں۔وہ بھی لوگوں کے عیوب بہت جلد پہچان لیتے تھے۔وہ بھی مظلوموں کی فریادیں سنتے تھے اور وہ بھی اپنے دلائل و براہین سے دشمن کو قائل کر لیتے تھے، ہندوؤں نے انہی روحانی طاقتوں کو تصویری زبان میں کئی کئی آنکھوں ، ناکوں اور کئی کئی ہاتھوں کی شکل میں دکھایا ہے۔اگر وہ اپنے بزرگوں کو انسانوں کی شکل میں ہی پیش کرتے تو لوگ ان سے ڈر کر بھاگنے کی بجائے ان سے سبق سیکھتے اور اپنے اندر نیکی پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔مگر انہوں نے جس شکل میں اپنے بزرگوں کو پیش کیا ہے اُسے دیکھ کر تو انسان ڈر کر بھاگنے لگتا ہے۔اور جب وہ کئی کئی ہاتھ دیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ کوئی تیندوا 6 ہے، جب کئی کئی سر دیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ کوئی عجیب الخلقت حیوان ہے، جب کئی کئی آنکھیں دیکھتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی قسم کا سانپ ہے حالانکہ وہ ہمارے جیسے ہی انسان تھے۔یہ غلط فہمی جس دن دور ہو گئی اور ہندوؤں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ اُن کے دیوتا اور بزرگ بھی انسان ہی تھے تو وہ انسانوں سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہو جائیں گے اور صداقت کو قبول کرنا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دن حضرت خلیفہ المسیح الاول مسجد اقصٰی سے قرآن کریم کا درس دے کر واپس آ رہے تھے کہ راستہ میں ایک ہندو ڈپٹی جس کا مسجد اقصی کے ساتھ ہی ایک بڑا سا مکان تھا بیٹھا ہوا تھا۔وہ آپ کو دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حکیم صاحب ! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا پوچھیں۔اس نے کہا حکیم صاحب! میں نے سنا ہے کہ مرزا صاحب بادام روغن اور پلاؤ بھی کھا لیتے ہیں؟ اسی حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ڈپٹی صاحب! ہمارے مذہب میں یہ سب چیزیں جائز ہیں اور لوگ انہیں کھا سکتے ہیں۔مرزا صاحب کے لیے بھی ان طیب چیزوں کا کھانا جائز ہے۔اس پر وہ حیران ہو کر کہنے لگا کہ کیا فقروں کو بھی یہ چیزیں کھانا جائز ہے؟ یعنی کیا بزرگوں کے لیے بھی ان چیزوں کا کھانا جائز ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔ہمارے مذہب میں فقروں کے لیے بھی پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے۔اس پر وہ خاموش ہو گیا۔