خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 507

507 $1956 وہ خطبات محمود جلد نمبر 37 اور سامنے ایک چارپائی پر ایک ہندو بیٹھا ہوا ہے۔چودھری اسد اللہ خاں صاحب کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جو وہ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔اس کتاب کا سائز خطبہ الہامیہ جتنا ہے یعنی و بڑے سائز کی کتاب ہے۔چودھری اسد اللہ خاں صاحب نے اس کتاب میں سے ایک فقرہ یہ پڑھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گورداسپور میں ایسا ایسا بیان کیا ہے۔اس پر وہ ہندو کہتا ہے کہ اس کی معین مثالیں بھی تو دیں تا یہ بات ہماری سمجھ میں آ جائے۔چودھری اسداللہ خاں صاحب وہ کتاب اس طرح پڑھ رہے ہیں کہ اصل بات تو آ جاتی ہے لیکن مثالیں غائب ہیں۔اس لیے اُس ہندو نے کہا کہ آپ مثالیں بھی تو دیں تا کہ یہ بات ہماری سمجھ میں آ جائے۔اس پر میں کھڑا ہو گیا اور اُس کی بات کا جواب دینے لگا۔میں سمجھتا ہی ہوں کہ یہ سارا مضمون کشفی ہے کیونکہ میرے ہاتھ میں اُس وقت کوئی کتاب نہیں تھی۔میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ ہندوؤں میں اپنے پرانے بزرگوں کی جو شکلیں بنائی جاتی ہیں اور اُن کے کئی کئی ناک، کئی کئی ہاتھ اور کئی کئی آنکھیں دکھائی جاتی ہیں اُن کو ظاہر پر محمول کرنا درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مامور تو اس لیے آتے ہیں کہ لوگ اُن سے سبق سیکھیں لیکن ہندوؤں کی تصویروں میں جو بزرگوں کی شکلیں دی جاتی ہیں اُن کے کئی کئی ناک ، ہاتھ ، آنکھیں اور سر دکھائے جاتے ہی ہیں اور وہ سخت بھیانک شکلیں ہوتی ہیں۔ایسی شکل والے سے تو انسان بھاگتا ہے نہ کہ محبت کرتا ہے۔پس اگر وہ لوگ واقعی ایسے تھے تو پھر دنیا کو تعلیم نہیں دے سکتے تھے کیونکہ اُن کے زمانہ کے لوگ اُن کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہوں گے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے مامور لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے دنیا میں مبعوث ہوتے ہیں۔اس کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے یہ ملتی ہے کہ آپ فرماتے ہیں دنیا میں جو بھی مصلح آتا ہے وہ کسی اچھی قوم سے آتا ہے تا کہ لوگ اُس سے نفرت نہ کریں اور جب خدا تعالیٰ نے ہر مصلح کے لیے اچھی قوم میں سے ہونے کی شرط رکھی ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اُس کے کئی کئی ناک ہوں، کئی کئی ہاتھ ہوں یا کئی کئی سر اور کئی کئی آنکھیں ہوں۔اس سے تو لوگ ڈر جائیں گے اور ایسے مصلح کو دیکھتے ہی بھاگ جائیں گے۔اُس سے فائدہ کیا اُٹھائیں گے۔اگر اُس کے کئی بڑے بڑے ناک -