خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 426

$1956 426 خطبات محمود جلد نمبر 37 بات ہے کیونکہ اس سے انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی نازل کردہ نہیں بلکہ خدا تعالی کی نازل کردہ ہے۔اگر یہ کتاب کسی انسان کی بنائی ہوئی ہوتی تو اس میں ہزار دو ہزار سال بعد میں اُٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب نہ ہوتا۔کیونکہ انسان کے ذہن میں وہی اعتراضات آ سکتے ہیں جو وہ خود نکالے یا اُس کے زمانہ کے لوگوں نے کیے ہوں۔لیکن قرآن کریم میں تو اُن اعتراضات کا بھی جواب ہے جو ہزار دو ہزار سال بعد میں آنے والے لوگوں نے کرنے تھے اور ہزار دو ہزار سال بعد میں ہونے والے اعتراضات کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہی ہو سکتا ہے ورنہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان اعتراضات کا علم کیسے ہو سکتا تھا۔پس اگر ان اعتراضات کا جواب جو بیسویں صدی میں ہونے تھے قرآن کریم میں موجود ہے تو صاف پتا لگ گیا کہ یہ کتاب خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہے کسی انسان کی تصنیف نہیں۔غرض قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ غیر مسلموں خصوصاً یور بین مصنفوں کی کتابوں کو پڑھا جائے کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہندوؤں نے جو اعتراضات اسلام پر یا قرآن کریم پر کیسے ہیں وہ زیادہ تر ضد اور تعصب کی وجہ سے کیسے ہیں اور ایسے اعتراضات کا جواب آسانی سے دیا جا سکتا ہے۔ان کے لیے کسی تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن عیسائی لوگ قرآن کریم پر غور کرنے اور بڑی چھان بین کرنے کے بعد اعتراض کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ قرآن کریم کی سورتوں کے نزول اور ترتیب کے متعلق عیسائیوں نے وہ وہ باتیں لکھی ہیں جو بڑے بڑے مسلمان مفسرین نے بھی نہیں لکھیں۔وہ لکھتے تو قرآن کریم کو رڈ کرنے کے لیے ہیں لیکن بعض اوقات خود ہی پھنس جاتے ہیں۔مثلاً سورۃ قصص جس میں ہجرت کی پیشگوئی پائی جاتی ہے اس کے متعلق عیسائی مصنفین بڑا زور مارنے اور تحقیق کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ مکی سورۃ ہے۔حالانکہ اگر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ سورۃ مکی ہے تو ساتھ ہی یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سچے ہیں کیونکہ اگر یہ سورۃ مکی ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پتا لگ گیا تھا کہ میں ملتے سے ہجرت کروں گا اور اس کے بعد میں ایک فاتح کی حیثیت سے دوبارہ اس شہر میں داخل