خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 425

خطبات محمود جلد نمبر 37 425 $1956 رستے کھول دیتا ہے اور ان پر تمام اعتراضات کی حقیقت واضح کر دیتا ہے۔اگر کوئی شخص محض بے ایمانی سے اعتراض کرتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس شخص نے بے ایمانی سے اعتراض کیا ان ہے لیکن اگر ہمیں معلوم ہو کہ دھوکا لگنے کی کوئی وجہ موجود تھی اور معترض کے پاس کوئی نہ کوئی کی دلیل تھی تو ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔اور اگر ہم ایمانداری سے غور کریں تو یقیناً ہماری توجہ اس طرف پھر جائے گی کہ اگر ایک شخص کو کسی دلیل کی وجہ سے ٹھوکر لگی ہے تو اور اشخاص کے لیے بھی وہی دلیل ٹھوکر کا موجب ہو سکتی ہے۔اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس اعتراض کو دُور کریں تا کہ ان لوگوں کو ایمان نصیب ہو۔بہر حال مجھے اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے بہت سے علوم عطا فرمائے ہیں۔اسی طرح میری تفسیر میں اور بھی بہت سے نکات ایسے آتے ہیں جن کا موجب عیسائی اور آریہ دشمن تھے۔اگر ان کے اعتراضات نہ ہوتے تو میں غالباً وہ نکات کی بیان نہ کر سکتا اور میری توجہ ان کی طرف نہ پھرتی۔میں نے دیکھا ہے کہ آریہ لوگ تو یونہی کی اعتراض کر دیتے ہیں جنہیں عقلی طور پر بڑی آسانی سے رڈ کیا جا سکتا ہے لیکن عیسائی مستشرق تاریخ کی بڑی گہری تحقیق کرنے کے بعد اعتراض کرتے ہیں اور لازمی طور پر اُن کا جواب دینے میں بھی بڑی تحقیق کرنی پڑتی ہے جس سے بہت کچھ علوم کھل جاتے ہیں۔لیکن شرط یہی ہے کہ انسان قرآن کریم پر کامل ایمان رکھتا ہو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر اعتراض پکا ہو گیا تو قرآن کریم کے متعلق شبہ پڑ جائے گا۔لیکن میرا ایمان یہ ہے کہ جتنا اعتراض پکا ہو اتنا ہی قرآن کریم کی عظمت کا ظہور ہوتا ہے کیونکہ اگر پکے اعتراض کا جواب پہلے سے قرآن کریم میں موجود ہو تو یہ اس کی بڑائی اور عظمت کی دلیل ہو گی۔محض بریکار باتوں کا جواب تو ہر کوئی دے سکتا ہے۔کامل انسان کا ثبوت یہی ہوتا ہے کہ وہ کامل اعتراض کو توڑے۔اگر یورپین مصنف اور مؤرخ بڑی سوچ بچار کے بعد کوئی اعتراض کریں اور اُس اعتراض کا جواب قرآن کریم کی انہی آیات میں مل جائے تو صاف پتا لگ جائے گا کہ یہ کلام کسی عالم الغیب ہستی نے اُتارا ہے جسے پتا تھا کہ اُنیسویں ! بیسویں صدی میں اس آیت پر عیسائی مصنفین فلاں فلاں اعتراض کریں گے۔اس لیے اس نے تیرہ سو سال پہلے ان اعتراضات کا جواب دے دیا۔پس یہ ایمان کے بڑھانے والی۔