خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 427

$1956 427 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہوں گا۔اگر باوجود اس کے کہ آپ کو اپنے مستقبل کے متعلق کوئی علم نہیں تھا آپ یہ پیشگوئی کی فرماتے ہیں اور پھر وہ پوری بھی ہو جاتی ہے تو یہ آپ کی صداقت کی واضح دلیل ہے۔پس عیسائی مستشرق اس سورۃ کو مکی کہہ کر خود پھنس گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کر گئے۔اگر وہ یہ لکھ دیتے کہ یہ سورۃ مدنی ہے تو کہا جا سکتا تھا کہ مدینہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طاقت حاصل ہو گئی تھی۔اس لیے اس قسم کی پیشگوئی کرنا کوئی مشکل امر نہیں تھا۔لیکن انہوں نے اس سورۃ کو مکی قرار دیا اور اسی طرح اپنی تحقیق سے خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اظہار کر دیا۔عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے مفسرین کہتے ہیں کہ اس سورۃ میں بعض آیات مدنی بھی ہیں لیکن عیسائی مصنفین اسے خالص مکی سورۃ قرار دیتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے ہاتھ خود کاٹتے اور اسلام کی صداقت کا ثبوت مہیا کرتے ہیں۔پس غیر مسلموں کے اعتراضات کو پڑھ کر ایک سچے مومن کا ایمان بڑھتا ہے کیونکہ ان سے پتا لگتا ہے کہ دشمن نے قرآن کریم پر حملہ کی جو راہیں تلاش کی تھیں خدا تعالیٰ نے ان کو پہلے سے بند کر رکھا ہے اور ہزار دو ہزار سال بعد جو اعتراضات وارد ہونے تھے ان کا جواب پہلے ہی قرآن کریم میں موجود ہے۔بعض عیسائی مصنفین لکھتے ہیں کہ ہمیں سورتوں کے اسٹائل (STYLE) سے پتا لگ ہے کہ اس کی فلاں آیت مدنی ہے اور فلاں مکی۔ہم کہتے ہیں اگر یہ بات درست ہے کہ تمہیں قرآن کریم کے اسٹائل سے ہی پتا لگ جاتا ہے کہ اس کی فلاں آیت مکی ہے اور فلاں مدنی تو یہ قران کریم کا کتنا بڑا کمال ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ کو جس میں ہجرت کی پیشگوئی تھی اس اسٹائل میں اُتارا جس کی وجہ سے تم نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یہ سورۃ مکی ہے اور اس کی وجہ سے تمہیں اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کرنا پڑا کہ مکی زندگی میں ہجرت اور فتح مکہ کے متعلق جو پیشگوئی قرآن کریم نے کی تھی وہ سچی نکلی ورنہ اگر یہ کسی انسان کی بنائی ہوئی کتاب ہوتی تو اسے اس بات کا کیسے علم ہو سکتا تھا کہ آج سے اتنے سالوں کے بعد وہیری، نولڈ کے اور دیگر مستشرقین نے کسی سورۃ کے اسٹائل کی وجہ سے اسے مکی یا مدنی کہنا ہے اس لیے اس کا اسٹائل ایسا رکھو کہ اس سورۃ کے پڑھتے ہی ہر شخص معلوم کر لے کہ یہ مکی ہے۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں