خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 424

$1956 424 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہے اسی طرح اور کئی کتابیں تھیں ان میں اسلام پر اعتراضات ہوتے تھے۔میں نے پہلے اُن اعتراضات کو پڑھا اور بعد میں ان اعتراضات کو دور کرنے کی نیت سے میں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا۔اگر میں مخالفین اسلام کی کتابیں نہ پڑھتا تو میرا اُن اعتراضات کی طرف ذہن نہیں اسکتا تھا جو انہوں نے کیے ہیں۔پس قرآن کریم کے پڑھنے میں جہاں ہمارے پرانے ائمہ نے ہماری مدد کی۔وہاں ایک حد تک پادریوں نے بھی ہماری مدد کی ہے۔یہ بات تو اُس زمانہ کی ہے جب میں صرف اُردو جانتا تھا۔جب انگریزی زبان سیکھ لی تو مستشرقین کی کتب سے بڑی مدد ملی۔مثلاً و ہیری (Wherry) کی کتابیں ہیں، نولڈ کے، میور ، سیل 4 اور پامر 5 وغیرہ کی کتابیں ہیں۔ان کتابوں کے پڑھنے کے بعد جب میں نے قرآن کریم پر غور کیا تو میرا ذہن ان سب اعتراضات کے جوابات کے لیے تیار ہو گیا جو ان دشمنانِ اسلام نے کیسے تھے۔اگر پہلے سے ان کے اعتراضات ذہن میں نہ ہوتے تو ممکن تھا کہ میں بھی ان آیات پر سے یونہی گزر جاتا اور سمجھتا کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا۔لیکن ان لوگوں نے پہلے سے کئی اعتراضات ذہن میں ڈال دیئے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں نے قرآن کریم پڑھا میں نے اپنے اوپر فرض کر لیا کہ ان اعتراضات کو دور کرنا ہے۔اور جب میں نے اس نقطہ نگاہ سے قرآن کریم کا مطالعہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان تمام اعتراضات کا جواب سمجھا دیا۔میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علوم میں اسی طرح ترقی بخشی ہے کہ میں نے کبھی کسی معترض کے اعتراض کو غیر اہم نہیں سمجھا بلکہ جو بھی اعتراض کسی معترض نے کیا میں نے اسے اہم سمجھا اور اُس کا جواب دینے کی کوشش کی۔بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اعتراض کرے تو ہنس پڑتے ہیں اور کہتے ہیں یہ بھی کوئی اعتراض ہے۔ایسے لوگوں کو جواب نہیں سو جھتا۔لیکن جو لوگ عقل سے موازنہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص کو دھوکا لگا ہے تو دوسرے کو بھی دھوکا لگ سکتا ہے اور پھر تیسرے کو بھی دھوکا لگ سکتا ہے بلکہ اگر ایک شخص کو صحیح اور جائز طور پر دھوکا لگ گیا ہے تو ہمیں ہزار کو بھی صحیح اور جائز طور پر دھوکا لگ سکتا ہے۔اس لیے ہمیں ان اعتراضات کو حل کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ان کی کامیابی کے