خطبات محمود (جلد 37) — Page 423
$1956 423 خطبات محمود جلد نمبر 37 باتیں زائد دکھائی دیتی ہیں مگر قرآن کریم پر پورا غور کیا جائے تو اس کی آیات میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا۔اس کتاب میں جہاں تک مجھے یاد ہے تمیں یا چالیس واقعات کا ذکر ہے اور اس میں مصنف نے اپنی سمجھ کے مطابق تمام ایسے اختلافات کو دور کر دیا ہے جو بظاہر قرآن میں دکھائی دیتے ہیں۔اس کتاب میں مصنف نے جَانٌّ، ثُعبان اور حَيَّةٌ کے الفاظ کے فرق کو بیان کر کے اس تضاد کو دور کیا ہے جو قرآنی آیات میں دکھائی دیتا ہے اور اُس نے جو جواب دیا ہے وہ نہایت معقول ہے۔آج جبکہ میں تفسیری نوٹ لکھوا رہا تھا مجھے وہ جواب یاد آ گیا اور میں نے سمجھا کہ تحدیث بالنعمت کے طور پر اس بات کا اقرار کروں کہ میں نے یہ نکتہ ایک مصری مصنف سے سیکھا ہے۔اسی طرح چھوٹی چھوٹی نحوی تراکیب کی وجہ سے معانی میں جو فرق پڑتا ہے اس کو میں نے ہسپانیہ کے ایک بڑے عالم ابوحیان کی تفسیر بر محیط سے اخذ کیا ہے۔علامہ ابو حیان کو نحو کے استعمال میں بہت مہارت حاصل تھی اور وہ چھوٹے چھوٹے نکتوں سے بڑے بڑے معانی اکر لیتے تھے اور وہ اعتراضات جن کے جوابات علماء کو ساری عمر قرآن کریم پر غور کرنے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتے تھے انہیں آسانی سے حل کر لیتے تھے۔اسی طرح تفسیر بالا حادیث کی بہت سی کتابیں موجود ہیں مثلاً علامہ سیوطی کی کتاب در منشور ہی ہے لیکن ابنِ کثیر نے اس بارہ میں نہایت قیمتی مواد جمع کیا ہے۔وہ احادیث کو نقل کرتے ہیں تو زیادہ تر بخاری اور مسند احمد بن حنبل کی روایات لاتے ہیں اور ان کا ایسا موازنہ کرتے ہیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی علیحدہ ہو جاتا ہے۔بہر حال پرانی تفاسیر پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے گزشتہ بزرگوں نے اپنے اپنے زمانہ میں بڑی محنت کی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن سے بعض غلطیاں بھی ہوئی ہیں لیکن بہر حال اُن کی محنت قابلِ داد ہے۔چونکہ قرآن کریم پر زیادہ تر اعتراضات اس زمانہ میں ہوئے ہیں اس لیے اس زمانہ میں در حقیقت قرآن کریم ہمیں دشمنانِ اسلام نے ہی سکھایا ہے۔بچپن میں جب مجھے قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی الماریوں میں مخالفین اسلام کی کئی کتابیں رکھی ہوئی ہوتی تھیں مثلاً پادری عبداللہ آتھم کی کتابیں تھیں، پادری وارث دین کی کتابیں تھیں۔