خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 127

$1956 127 خطبات محمود جلد نمبر 37 انہیں بہن بھی وہی رشتے لاتی ہے جن کے متعلق ہمیں علم ہے کہ اُس نے پسند نہیں کرنے۔پس واقفین زندگی کو بھی اپنی حیثیت دیکھنی چاہیے۔بیشک ان میں دینی قابلیت پائی جاتی ہے لیکن اپنا معیار اتنا بلند بھی نہیں کر لینا چاہیے کہ کوئی کمشنر اپنی لڑکی انہیں دے تو وہ قبول کریں گے ورنہ نہیں۔آخر وہ ایسا رنگ اپنے اندر کیوں پیدا نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ کو بھی پسند ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت ابو بکر مالدار شخص تھے اور انہوں نے اپنی لڑکی آپ کی خدمت میں پیش کر دی تھی لیکن آپ کی دوسری بیویاں اکثر ایسی ہی تھیں کہ ان میں سے کوئی مطلقہ تھی اور کوئی بیوہ تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو برداشت کیا ہے یا نہیں؟ پھر واقفین کو کون سے سُرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ انہیں کسی بڑے رئیس کی لڑکی ملے تو وہ شادی کریں گے ، ورنہ نہیں۔اگر تم اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہو تو لڑکی والے اپنے آپ کو کیوں بڑا نہ سمجھیں۔پس واقفین کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو ترک کر دیں اور جو چیز بھی خدا تعالی کی طرف سے ملے اُس کی قدر کریں۔بہر حال یہ بات بالکل غلط ہے کہ واقفین کو رشتے نہیں ملتے۔میرے باڈی گارڈوں کی تنخواہ پینسٹھ روپے ماہوار ہے۔لیکن پچھلے چند دنوں میں ان میں سے پانچ کی شادیاں ہوئی ہیں۔واقفین کو ان سے زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔مثلاً مبلغین کی تنخواہ پچھتر روپے سے ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار ہے۔اگر پینسٹھ روپے ماہوار لینے والے کو رشتہ مل جاتا ہے تو انہیں کیوں نہیں مل سکتا ؟ وجہ صرف یہی ہے کہ باڈی گارڈ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں کسی شریف گھرانے کی لڑکی مل جائے تو کافی ہے لیکن واقف زندگی کہتا ہے کہ مجھے کوئی جرنیل یا گورنر جنرل لڑکی دے تب میں شادی کروں گا ورنہ نہیں۔اور جب وہ اپنی قیمت حد سے زیادہ لگاتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اسے نا کام کرتا ہے۔پس جب باڈی گارڈوں کو بھی رشتے مل جاتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ واقفین کو شتے نہ ملیں۔کیونکہ ایک واقف کی حیثیت باڈی گارڈ سے بہت زیادہ ہے۔وہ عربی کا گریجوایٹ ہوتا ہے اور اُس کا اعزاز باڈی گارڈ سے سو گنے زیادہ ہوتا ہے۔پھر اس کی آمد بھی زیادہ ہوتی ہے۔باڈی گارڈ کی تنخواہ میں ترقی بھی ہو گی تو وہ پچھتر روپے سے زیادہ نہیں