خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 126

$1956 126 خطبات محمود جلد نمبر 37 میرے پاس لے آئے۔میں نے انہیں کہا اسے فوراً واپس کر دو کیونکہ تم نے خود مانگا ہے اور سوال کر کے میری بے عزتی کی ہے۔میں اسے ہرگز قبول نہیں کر سکتا۔پس اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی کپڑا نہیں، کوٹ نہیں اور کسی دوست سے بات کرتے ہوئے تمہارے منہ سے نکل جاتا ہے کہ میرے لیے فلاں چیز لیتے آنا اور وہ لے آئے تو تم اُسے کہو یہ کسی اور کو دے دو کیونکہ میرے منہ سے غلطی سے ایسی بات نکل گئی تھی۔یہ سوال ہے اور سوال کرنا منع ہے۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یقیناً اُس کی عزت بڑھے گی اور لوگ اُسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیں گے۔اس دوست نے اس بات کی کہ واقفین کو جماعت میں بنظر استحسان نہیں دیکھا جاتا ایک مثال یہ دی ہے کہ انہیں کوئی لڑکی نہیں دیتا۔مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔میری یہ عادت نہیں کہ میں کسی کا نام لے کر بات کروں لیکن جہاں اس کے بغیر چارہ نہ ہو وہاں مجبوری ہوتی ہے ہے۔میرے نزدیک ہماری جماعت میں ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ معززین جماعت نے واقفین کو اپنی لڑکیاں دیں۔مثلاً ہمارے ایک مبلغ عبدالحی صاحب ہیں۔وہ صرف میٹرک پاس ہیں۔انہیں جماعت کے ایک ڈاکٹر نے جن کی پریکٹس ڈیڑھ دو ہزار روپیہ ماہوار کی ہے اپنی کی لڑکی کا رشتہ دے دیا۔لیکن عبدالحی صاحب نے اُسے طلاق دے دی۔پھر ہم نے وہاں ایک اور مبلغ بھیجا تو باوجود اس کے کہ ڈاکٹر صاحب کو اس لڑکی کی وجہ سے صدمہ پہنچ چکا تھا انہوں نے اس لڑکی کا نکاح پھر نئے مبلغ سے کر دیا۔گویا انہوں نے اپنی لڑکی کی دو دفعہ شادی کی اور دونوں دفعہ واقفین زندگی سے کی حالانکہ اُن کے پہلے داماد نے اس بات کا خیال تک نہ کیا کہ اگر میں واقف زندگی ہوں اور مجھ میں کوئی خوبی ہے تو وہ خدا تعالی کی نظر میں ہے۔یہ شخص دنیوی لحاظ سے نہایت معزز ہے اور ڈیڑھ دو ہزار روپیہ ماہوار پریکٹس کے ذریعہ کما لیتا ہے۔اس نے اگر مجھے محض واقف زندگی ہونے کی وجہ سے لڑکی دے دی ہے تو مجھے اس کی قدر کرنی چاہیے۔پھر ایک اور واقف زندگی ہے اُس کے لیے پانچ سات رشتے تلاش کیے گئے لیکن اُس نے ہر دفعہ انکار کر دیا اور کہا کہ میری بہن جہاں چاہے گی میرا رشتہ کرے گی اور اُس کی