خطبات محمود (جلد 37) — Page 128
$1956 128 خطبات محمود جلد نمبر 37 بڑھے گی لیکن واقفین کی تنخواہیں ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار تک جا سکتی ہیں۔پھر اگر ان میں سے کسی کا بیرونی مبلغ کے طور پر انتخاب ہو گیا یا مرکز میں ناظر یا نائب ناظر کے عہدہ پر تقرر ہو گیا ہے تو ان کی تنخواہ تین تین، چار چار سو روپیہ تک بھی جاسکتی ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ واقفین کو رشتے ملتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ اپنی نادانی کی وجہ سے خود انہیں رڈ کر دیتے ہیں۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ جماعت کے امراء کو تحریک کی جائے کہ وہ اپنے ایک ایک لڑکے کی زندگی دین کی خدمت کے لیے وقف کریں۔اس سے بھی جماعت میں واقفین کا اعزاز بڑھے گا اور نوجوانوں کو وقف کی تحریک ہو گی۔اس بات کا جواب میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ یہ بالکل غلط ہے۔جماعت میں مجھ سے زیادہ ادب اور کس شخص کا ہے؟ میں نے اپنے سب بیٹوں کی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔اگر اس سے واقفین کا اعزاز نہیں بڑھا اور جماعت کو وقف کی طرف توجہ نہیں ہوئی تو اور کونسا احمدی ہے جو اپنا لڑ کا دین کی خدمت کے لیے وقف کر دے تو جماعت میں واقفین کا اعزاز بڑھ جائے گا اور لوگوں کو وقف کی طرف توجہ پیدا ہو جائے گی۔پھر ایک شخص نے اس بات کی تحریک کی ہے کہ عیسائیوں کی طرح تبلیغ کی خاطر ایسے نو جوانوں کو لیا جائے جو مجر دانہ زندگی بسر کرنے کے لیے تیار ہوں۔مگر یہ جائز نہیں۔اس لیے ہم اسے اختیار نہیں کر سکتے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شادی کے بعد عورتیں بعض اوقات ایسے مطالبات کر دیتی ہیں جو مبلغ پورا نہیں کر سکتے اور اس کے نتیجہ میں ازدواجی زندگی تلخ ہو جاتی ہے لیکن ہم اس تجویز پر عمل نہیں کر سکتے۔اسلام نے تجرد کی زندگی بسر کرنے سے منع کیا ہے 1 اور جس کام کو اسلام نے جائز قرار نہیں دیا اُسے ہم اسلام کی خدمت کے لیے کس طرح جاری کر سکتے ہیں۔پھر ایک دوست نے لکھا ہے کہ واقفین کو کوئی نہ کوئی فن سکھانا چاہیے۔یہ بات نہایت معقول ہے۔میں نے بعض واقفین کو زمیندارہ کام سکھانے کی ہدایت دی ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔اگر انہوں نے اپنے اندر قابلیت پیدا کر لی تو نہ صرف جماعت میں ان کا وقار بڑھے گا بلکہ یہ فن بھی ترقی کرے گا۔جب انہیں جماعتوں میں