خطبات محمود (جلد 37) — Page 570
$1956 570 خطبات محمود جلد نمبر 37 کوئی مسافر گھبرا کر آواز دیتا ہے کہ کیا کوئی ہے؟ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی ہو تو وہ میری مدد کرے۔اسی طرح جب انسان بھی گھبرا کر آواز دے کہ کیا کوئی ہے؟ تو خدا تعالیٰ کہتا ہے تم میرے اس بندے کو بتا دو کہ میں ہوں اور پھر میں زیادہ دور بھی نہیں بلکہ میں تمہارے قریب ہی ہوں۔دنیا میں پاس رہنے والا شخص بھی بعض اوقات مدد نہیں کرتا، بعض دفعہ تو وہ مدد کا ارادہ ہی نہیں کرتا اور کہتا ہے مرتا ہے تو مرے مجھے اس کی مدد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اور بعض اوقات وہ اپنے اندر زیادتی کرنے والے کے خلاف مدد کرنے کی طاقت نہیں پاتا۔جیسے کوئی شیر گاؤں میں آ جائے اور کسی پر حملہ آور ہو تو دوسرے لوگ بجائے اُس کی مدد کرنے کے بھاگ جاتے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اگر کوئی بندہ گھبرا کر آواز دے اور کہے کہ کوئی ہے؟ تو وہاں خدا موجود ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے اگر چہ مبہم طور پر آواز دی ہے کہ شاید کوئی موجود ہو تو وہ بول پڑے لیکن میں اس کی مبہم پکار کو بھی اپنی طرف مالی منسوب کر لیتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وہ مجھے ہی بلا رہا ہے۔میں بھول جاتا ہوں کہ جو کچھ کہہ رہا ہے خیالی طور پر کہہ رہا ہے۔میں اس وقت اگر مگر کو چھوڑ دیتا ہوں اور فوراً اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑتا ہوں۔اس لیے اگر کوئی میرے متعلق سوال کرے تو اُسے بتا دو کہ میں قریب ہی ہوں دور نہیں۔بیشک دنیا میں بعض دفعہ کوئی دوسرا شخص قریب بھی ہوتا ہے تو پھر بھی وہ مدد کرنے کا ارادہ نہیں کرتا یا اُس کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔لیکن میں تو ارادہ کر کے بیٹھا ہوں کہ اس کی مدد کروں گا اور پھر میرے اندر اس کی مدد کرنے کی طاقت بھی ہے۔لیکن اگر میں باوجود آقا ہونے کے اُس کی آواز سنتا ہوں اور اُس کی مدد کے لیے دوڑ پڑتا ہوں تو فَلْيَسْتَجِبْوَانِى اسے بھی چاہیے کہ میری آواز کا جواب دے۔عربی زبان میں اِسْتَجَابَ کے دو معنے ہوتے ہیں۔جب یہ لفظ خدا تعالیٰ کے متعلق بولا جاتا ہے تو اس کے معنے ہوتے ہیں اُس نے دعا قبول کی اور جب یہ انسان کے متعلق استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے معنے ہوتے ہیں اُس نے آواز کا جواب دیا۔اس آیت میں اِستَجَابَ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے یہ انسان کے متعلق ہے۔اس لیے اس کے معنے یہ ہیں کہ میرے بندوں کا بھی فرض ہے کہ میں انہیں بلاؤں تو وہ بھی آواز دیا کریں۔باوجود اس کے کہ میں ان کا آقا ہوں اور یہ میر۔