خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 569

$1956 569 خطبات محمود جلد نمبر 37 پیدائش کے وقت اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا وہ اُس کی موت کے بعد حیرت زدہ ہوتے ہیں کہ وہ کہاں چلا گیا۔گویا انسان اس دنیا میں اکیلا ہی آتا ہے اور اکیلا ہی جاتا ہے اور اس کے دل میں ہمیشہ یہ خلش رہتی ہے کہ یہ تنہائی دور بھی ہو گی یا نہیں؟ اور پھر دور ہو گی تو کیسے ہوگی؟ آخر وہ چاروں طرف ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور پہلے صرف اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اگر اُسے کوئی ساتھی ملتا ہے تو پھر اُس کا پیدا کرنے والا خدا ہی ہو سکتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے تو اُسے ساتھی مل جائے اور اس کی بیکلی دور ہو جائے۔پھر جب وہ اس بات پر قائم ہو کر صحیح جدوجہد کرتا ہے تو اسے روشنی نظر آ جاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ جو رستہ اُس نے اختیار کیا تھا اور سمجھا تھا کہ شاید وہ ہستی جسے خدا کہتے ہیں اس تنہائی میں میری ساتھی بن جائے وہ صحیح نکلا ہے اور واقع میں خدا تعالیٰ ہی میرا ساتھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک دفعہ کشفی حالت میں دیکھا کہ اپنے بازو پر یہ الفاظ لکھ رہے ہیں کہ میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے 2 یہ کشف در حقیقت اس آیت کا ہی ترجمہ ہے۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہی نہیں تو وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ مَا مطلب ہوا؟ کیونکہ انسان پوچھتا اُسی کے متعلق ہے جو اُسے نظر آتا ہو۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی سوال مبہم بھی ہوتا ہے جیسے رات کو کوئی مسافر اندھیرے میں سفر پر جا رہا ہو اور اسے خطرہ محسوس ہو تو وہ آواز دیتا ہے کہ کوئی ہے؟ اب اِس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ اسے کوئی انسان نظر آ رہا ہے بلکہ وہ اس خیال سے آواز دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص وہاں ہو تو وہ آئے اور اس کی مدد کرے اور جنگل میں تنہائی اور اندھیرے کی وجہ سے جو گھبراہٹ اُس پر طاری ہے وہ دور ہو جائے۔اسی طرح یہ آیت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب دنیا میں انسان تنہائی محسوس کرے اور سمجھے کہ مجھے کسی کی مدد کی ضرورت ہے اور خدا تعالیٰ جو غیر مرئی ہے اُس کے متعلق وہ کہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ آئے اور میری مدد کرے جیسے اندھیرے میں