خطبات محمود (جلد 37) — Page 571
$1956 571 خطبات محمود جلد نمبر 37 غلام ہیں یہ پکارتے ہیں تو میں ان کی آواز سنتا ہوں اور دوڑتا ہوا ان کی مدد کے لیے آ جاتا ہوں۔پس ان کا تو زیادہ فرض ہے کہ اگر میں انہیں آواز دوں تو وہ لبیک کہتے ہوئے میرے۔مدد پاس آ جائیں اور وہ صرف میری آواز کا ہی جواب نہ دیں بلکہ وہ یقین رکھیں کہ میں ان کی۔کروں گا گویا فَلْيَسْتَجِوانِ ہی کافی نہیں بلکہ وَلْيُؤْمِنُوالی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ جسے دعا کرتے ہوئے یہ یقین نہیں ہوتا کہ کوئی خدا ہے اور وہ اس کی مدد کرے گا تو وہ دعا اس کے منہ پر ماری جاتی ہے۔اگر اسے خدا تعالیٰ کی مدد کا یقین ہی نہیں تو وہ اس کی مدد کیوں کرے گا۔احادیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی 3 کہ اگر انسان میرے متعلق یہ یقین رکھتا ہے کہ میں اس کی مدد کروں گا تو میں اس کی مدد کرتا ہوں۔اور اگر وہ میرے متعلق تذبذب میں مبتلا ہے اور اسے یہ یقین نہیں کہ میں اس کی مدد کروں گا تو میں اُس کی مدد نہیں کرتا۔پس خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر میرا کوئی بندہ مجھے بلاتا ہے تو اُسے کہہ دو کہ میں اس کے قریب ہوں لیکن ضرورت ہے کہ میں بھی جب اسے بلاؤں تو وہ دوڑتے ہوئے میری آواز کی طرف آئے۔اب یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ تو ہر انسان سے نہیں بولتا وہ اپنے رسولوں کے ذریعے ہی بولتا ہے۔اس لیے اس آیت کا یہ مطلب ہوا کہ جب میں اپنا کوئی رسول بھیجوں تو تمہارا بھی فرض ہے کہ اس رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد کرو اور میرے بھیجے ہوئے دین کی اشاعت کرو۔اگر تم میری آواز کو سنو گے اور اس کا جواب دو گے اور پھر یقین رکھو گے کہ میں تمہاری مدد کروں گا تو میں یقیناً تمہاری مدد کروں گا اور تمہیں اکیلا اور بے یارومددگار نہیں چھوڑوں گا۔صحابہ نے اس کا ایسا نظارہ دکھایا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ حنین کے لیے تشریف لے گئے تو دشمن نے پہلے یہ چاہا کہ وہ شہر سے دور کر مسلمانوں کا مقابلہ کرے۔وہ علاقہ ان کا اپنا تھا اور وہ اس سے خوب واقف تھے اور پھر وہ سمجھتے تھے کہ وہ مسلمانوں سے تعداد میں زیادہ ہیں لیکن بعد میں کسی عقلمند شخص نے انہیں مشورہ دیا کہ شہر سے زیادہ دور نہ جاؤ بلکہ شہر کے قریب ہی اپنی صفیں بنا لو۔یہ جگہ تنگ ہے اور اس کے دونوں طرف پہاڑیاں ہیں۔مسلمان اگر تم پر حملہ آور ہوں گے تو وہ لازمی طور