خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 365

$1956 365 خطبات محمود جلد نمبر 37 ہم وہی مانیں گے جو خدا نے ہمیں براہِ راست سمجھایا یا جس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے الہاموں سے ہمیں دی یا جس کی خبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن اور حدیث میں دی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اصل آقا ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے احکام کی تشریح اور دنیا میں ان کی اشاعت کرنے کے لیے آئے ہیں۔اور ہم پر خوابوں کے ذریعہ جو کچھ ظاہر ہوا ہے یہ خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک فضل ہے۔کیونکہ وہ کہتا ہے کہ مومنوں پر خدا تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔6 پس تیری وجہ سے ہم خدا تعالیٰ کی نعمت کو کیوں ٹھوکر ماریں؟ ہم تیری وجہ سے خدا تعالیٰ کے نشانوں کو ٹھو کر نہیں ماریں گے بلکہ ہمیشہ انہیں عزت دیں گے اور انہیں اپنے سر اور اپنی آنکھوں پر رکھیں گے۔تبھی ہم قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! تو نے جو ہمیں خواب دکھایا تھا اُسے ہم نے اپنے سر اور آنکھوں پر رکھا۔یا تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں جو کچھ بتایا ہم نے اسے اپنے سر اور آنکھوں پر رکھا۔یا تو نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ ہمیں جو کچھ خبر دی ہم نے اُسے سنا اور اُسے اپنے سر اور آنکھوں پر رکھا اور کسی بڑے سے بڑے آدمی کے آنے پر بھی ہم نے تیرے نشانوں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں پھینکا، انہیں ٹھوکر نہیں ماری، اُن کی ناقدری نہیں کی۔بلکہ ہمیشہ ہم نے ان کی قدر کی اور ہمیشہ انہیں اپنے دل میں رکھا، سر پر رکھا اور آنکھوں پر رکھا اور ہم نے اپنی جان دے دی مگر تیری صداقتوں کو ہم نے نہیں چھوڑا۔چاہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن اور حدیث میں آئی ہوں۔چاہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آپ کے الہامات میں آئی ہوں، چاہے فرشتوں کے ذریعہ ہمیں براہِ راست اُن کا علم حاصل ہوا ہو۔پس جس طرح ہم نے تیری صداقتوں کو دائمی طور پر اپنے ساتھ رکھا ہے تو بھی اپنے انعامات کو دائمی طور پر ہمارے ساتھ رکھ۔ہم مرنے اور فنا ہونے والے کمزور اور ناچیز بندوں نے جب تیرے نشانات کی دائمی طور پر قدر کی ہے اور کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی ان کی کو نہیں چھوڑا تو اے حسی اور قیوم خدا! اے قادر ومقتد رخدا! کیا تو ہمیں دائمی طور پر اپنے انعامات سے نہیں نوازے گا اور ہمیں اپنے قرب میں دائمی حیات نہیں بخشے گا؟ اگر تم