خطبات محمود (جلد 37) — Page 364
خطبات محمود جلد نمبر 37 364 $1956 ایک شیطان ہوا کرتا ہے مگر وہ ہمیں ملتا نہیں تھا۔آج حُسنِ اتفاق سے وہ ہمیں مل گیا ہے اور میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ آؤ شیطان کو دیکھ لو۔اب وہ زور سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہے مگر وہ اس کا ہاتھ نہ چھوڑیں اور کہیں اب آپ ہاتھ چھڑا کر کہاں جانا چاہتے ہیں۔میں تو ساری عمر اس تلاش میں رہا کہ مجھے شیطان نظر آ جائے مگر ملتا نہیں تھا۔ہم حیران تھے اور نبیوں کے وقت میں تو شیطان ہوا کرتا تھا اب مرزا صاحب کے وقت میں وہ شیطان کہاں گیا۔سوشکر ہے کہ آج ہم نے بھی شیطان دیکھ لیا۔اب تو میں نے نہیں چھوڑنا۔غرض بڑی مشکل سے ا ہاتھ چھڑا کر وہاں سے بھاگا۔پس سوال یہ ہے کہ اگر تم نے بے دلیل مانا تھا تو تم کافر ہو۔تم اپنے ایمان کا فکر کرو اور پیشتر اس کے کہ کوئی شیطان تمہارے پاس پہنچے تم خود اپنی موجودہ حالت سے تو بہ کرو اور کہو کہ ہم نے بے ایمانی کی کہ اسے مان لیا۔ہم نے کوئی دلیل نہیں دیکھی تھی۔شیطان نے ہمیں ورغلا دیا اور ہم نے اس شخص کو قبول کر لیا۔لیکن اگر واقع میں تم نے دلیل سے مانا ہے تو پھر سمجھ لو کہ جو بھی تمہارے پاس ورغلانے کے لیے آتا ہے وہ شیطان ہے۔اور جیسے گجرات کے لوگوں نے مرزا علی شیر سے سلوک کیا تھا اُسی طرح جب بھی کوئی ایسا شخص تمہارے پاس آئے تم فوراً لا حَول پڑھنے لگ جاؤ اور کہو کہ ہمیں مدت سے شیطان دیکھنے کا شوق تھا آج تمہیں دیکھ کر شیطان دیکھنے کی حسرت پوری ہو گئی ہے۔چنانچہ راولپنڈی اور کو ہاٹ کے بعض نوجوانوں نے لکھا ہے کہ جب اس قسم کے بعض آدمیوں کو ہم نے دیکھا تو ہمارے دل میں اُن کے متعلق بڑی نفرت پیدا ہوئی اور ہم نے سمجھا کہ یہ شیطان ہیں جو ہمیں ورغلانا چاہتے ہیں اور ہم نے لَا حَول پڑھنا شروع کر دیا۔اور واقع میں اگر تم نے ایک صداقت کو دلیل کی بناء پر مانا تھا تو پھر چاہے کتنا ہی بڑا آدمی اس کے مقابلہ میں کھڑا ہو جائے لازماً وہ شیطان ہو گا۔ہمیں اس کو دیکھتے ہی لَا حَول پڑھنا چاہیے اور استغفار کرنا چاہیے اور اسے کہنا چاہیے کہ ہم تجھے شیطان سمجھتے ہیں۔ہم تو خدا کے ماننے والے ہیں۔ہمیں خدا نے خوابوں کے ذریعہ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں کے ذریعہ یا اپنے تازہ معجزات اور نشانات کے ذریعہ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے ذریعہ ایک صداقت پر قائم کر دیا ہے۔اب اے شیطان! تیرا ہم میں کوئی حصہ نہیں۔