خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 22

$1956 22 22 خطبات محمود جلد نمبر 37 ملک لوکل چندہ ہوتا ہے جس سے ہم تبلیغی جلسوں اور دوسرے اجتماعوں کے لیے ہال کرایہ پر لیتے ہی ہیں اور مقامی تبلیغ پر خرچ کرتے ہیں۔کچھ حصہ چندہ کا مساجد پر خرچ ہوتا ہے۔پھر چندہ کا کچھ حصہ امریکہ کی مرکزی انجمنوں پر خرچ ہوتا ہے اور کچھ حصہ تابع مرضی مرکز ہوتا ہے۔غرض انہوں نے لکھا کہ امریکہ کی جماعت کا چندہ یقیناً چالیس ہزار ڈالر سالانہ ہے۔میں نے رجسٹروں سے چیک کر لیا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میں روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔پھر ان لوگوں کو خدا تعالیٰ نے ایسی ہمت دی ہے کہ کل ہی مجھے امریکہ سے ایک نوجوان کا خط آیا۔وہ ان دنوں وہاں کسی کالج میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔اس نوجوان نے تحریر کیا ہے کہ میں نے سنا ہے آپ امریکہ سے دو مبلغ واپس بلا رہے ہیں اور یہ بہت افسوسناک امر ہے۔ہمارے ہاں تو دو سو مبلغ بھی ہوں تو وہ کافی نہیں۔کیونکہ امریکہ اتنا وسیع ملک ہے کہ چار پانچ ہزار میل کی لمبائی میں پھیلا ہوا ہے اور ہندوستان سے قریباً دُگنا ہے۔اتنے بڑے میں آپ نے صرف آٹھ مبلغ بھیجے ہیں۔بھلا ان آٹھ مبلغوں سے یہاں کیا بنتا ہے۔یہاں تو کم سے کم دو سو مبلغ ہوں تب کہیں جا کر سارے ملک میں اسلام اور احمدیت کی آواز پہنچ سکتی ہے۔پس آپ کو تو یہاں دو سو مبلغ بھیجنا چاہیے لیکن میں نے سنا ہے کہ آپ ان آٹھ مبلغین میں سے بھی دو کو واپس بلا رہے ہیں۔پھر اس نوجوان نے لکھا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ جماعت پر اخراجات کا بوجھ ہے لیکن بجائے اس کے کہ ہم مبلغین کی تعداد کو کم کریں ہمیں ان اخراجات کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی تدابیر کرنی چاہیں۔پھر وہ لکھتا ہے کہ آپ ہمارے ملک کا قیاس پاکستان پر نہ کریں کیونکہ ہمارے ملک میں اقتصادی حالت اتنی ترقی یافتہ ہے کہ مجھے ذاتی طور پر پتا ہے کہ یہاں بعض افراد نے پانچ سو ڈالر کے ساتھ کام شروع کیا اور آج ان کی آمد دس ہزار ڈالر سالانہ ہے۔پانچ سو ڈالر کے یہ معنے ہیں کہ اُنہوں نے پچیس سو روپیہ سے کوئی تجارت یا صنعت شروع کی تھی اور آج ان کی سالانہ آمد پچاس ہزار روپیہ سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔اس نوجوان نے مزید لکھا ہے کہ آپ ہمیں منظم کریں اور ہمیں کاموں پر لگائیں۔جب ہماری آمد میں بڑھیں گی تو چندے آپ ہی آپ بڑھیں گے۔چنانچہ وہاں اس قسم کی ہے کوشش جاری ہے کہ جماعت کو منظم کر کے اُن کی آمد کو بڑھایا جائے اور اِنشَاءَ اللهُ یہ بات