خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 21

خطبات محمود جلد نمبر 37 21 $1956 سکول ہے، لڑکیوں کا سکول ہے، اتنے تعلیمی ادارے کوڑیوں پر نہیں چلتے بلکہ لاکھوں روپے کے خرچ سے چلتے ہیں۔آخر جماعت کی تعداد لاکھوں کی ہے۔تبھی اتنے کالج اور سکول چل رہے ہیں۔گورنمنٹ اِس امر سے ناواقف نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت پاکستان کے ہر حصہ میں موجود ہے۔کراچی میں بھی جماعت موجود ہے، سابق سندھ کے مختلف شہروں میں بھی جماعت موجود ہے، سابق بلوچستان کے مختلف شہروں میں بھی جماعت موجود ہے، پشاور ڈویژن میں بھی جماعت موجود ہے، ڈیرہ اسماعیل خاں کے ڈویژن میں بھی جماعت موجود ہے، ہزارہ کے علاقہ میں بھی جماعت ہے، لاہور، ملتان اور راولپنڈی کی کمشنریوں میں بھی جماعت پائی جاتی ہے۔پھر بعض شہروں میں اتنی بڑی اور مضبوط جماعت ہے کہ اُس کا سالانہ چندہ لاکھ روپیہ سالانہ سے بھی اوپر ہے۔پھر مشرقی پاکستان میں بھی جماعت ہے، ہندوستان میں بھی جماعت ہے ، انڈونیشیا میں بھی جماعت ہے، امریکہ میں بھی جماعت اگر اتنی بڑی تعداد میں جماعت موجود ہے اور وہ مجھتی ہے کہ یہ اُس کا دینی کام ہے اور وہ اس ہے۔کے لیے چندے دیتے ہیں تو اس میں تعجب کی کونسی بات ہے کہ روپیہ کہاں سے آتا ہے۔امریکہ کی جماعت کے متعلق مجھے وہاں کے مبلغ خلیل احمد صاحب ناصر نے بتایا تھا کہ اس کا سالانہ چندہ چالیس ہزار ڈالر یعنی دولاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ گیا ہے۔میں نے چودھری غلام یسین صاحب سے جو امریکہ میں عرصہ تک بطور مبلغ کام کر چکے ہیں اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا خلیل احمد صاحب ناصر کو غلطی لگی ہے۔امریکہ کی جماعت کا چندہ دس ہزار ڈالر کے قریب ہے چالیس ہزار ڈالر نہیں۔میں نے خلیل احمد صاحب ناصر کو لکھا کہ آپ تو کہتے تھے کہ جماعت امریکہ کا سالانہ چندہ چالیس ہزار ڈالر ہے لیکن آپ کا ایک نائب کہتا ہے کہ یہ بات درست نہیں۔جماعت امریکہ کا چندہ چالیس ہزار ڈالر نہیں بلکہ دس ہزار ڈالر سالانہ ہے۔اس پر خلیل احمد صاحب ناصر نے تحریر کیا کہ میں نے جو کچھ کہا تھا وہی درست ہے اور رجسٹروں میں جو چندہ کا حساب درج ہے یہ رقم اس کے مطابق ہے۔میرے نائب کو غلطی لگی ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ انہوں نے صرف چندہ کے اُس حصہ کا اندازہ لگایا ہے جو مرکز کے زیر انتظام خرچ ہوتا ہے۔حالانکہ یہاں چندہ کئی مدات میں تقسیم ہوتا ہے۔اس میں سے کچھ تو