خطبات محمود (جلد 37) — Page 85
$1956 59 85 خطبات محمود جلد نمبر 37 چیلنج کرتا ہوں کہ ان میں سے کوئی ایسا کر کے دکھا دے۔یہ اس کے اختیار کی بات نہیں بلکہ اُس کی بیوی کے اختیار کی بات ہے۔اور یورپین عورت ہمارے ملک میں رہنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہو سکتی۔پس اگر ہم مبلغین کو یورپ میں شادیاں کرنے کی اجازت دیں تو وہ ہمارے کام کے نہیں رہیں گے۔ہم انہیں صرف تبلیغ کے لیے ہی تیار نہیں کرتے بلکہ اس غرض کے لیے بھی تیار کرتے ہیں کہ وہ ضرورت کے وقت مرکز کے اہم کاموں کو سنبھالیں گے کیونکہ مرکز کی حیثیت ایک دماغ کی سی ہے اور تبلیغ بطور ہاتھ کے ہے۔اگر دماغ ہی ماؤف ہو گیا تو ہاتھ کیا کام کریں گے۔اس لیے دماغ کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے۔اور جو مبلغ باہر شادی کر لیتا ہے اُس کا دماغ ماؤف ہو جاتا ہے اور وہ مرکز میں رہ کر کام نہیں کر سکتا۔چنانچہ ہمارے بعض مبلغین جنہوں نے باہر شادیاں کی ہیں اگر چہ وہ اچھے مبلغ ہیں لیکن جہاں تک مرکزی کاموں کا تعلق ہے وہ ہمارے کام کے نہیں رہے کیونکہ ہمارا سابق تجربہ بتا رہا ہے کہ یورپین عورتیں یہاں آکر گزارہ نہیں کر سکتیں۔چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب کو دیکھ لو ان کی طبیعت کسی قدر نرم ہے اور وہ کس قدر محبت اور پیار کرنے والے ہیں۔اُن سے بڑھ کر نرم طبیعت اور کون شخص ہو گا۔انہوں نے ایک ڈچ عورت سے شادی کی لیکن وہ یہاں آ کر گزارہ نہ کر سکی اور وہ انہیں چھوڑ کر بھاگ گئی۔چودھری فتح محمد صاحب سیال نے انگلینڈ میں شادی کی لیکن انہیں اپنی وی بیوی کو وہیں طلاق دے کر آنا پڑا۔پس مبلغین کا یہ خیال کر لینا کہ اُن کی بیویاں اُن کے کاموں میں رکاوٹ پیدا نہیں کریں گی بالکل جھوٹ ہے۔جب ہمارا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یورپین عورتوں کے لیے یہاں آکر رہنا مشکل ہے تو ان کی بیویوں کو کو نسے لعل لگے ہوئے ہیں کہ وہ یہاں آ کر گزارہ کر لیں گی۔سابق تجربہ کی بناء پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب بھی انہیں واپس بلایا جائے گا وہ اڑ بیٹھیں گی اور پھر انہیں یا تو وقف چھوڑنا پڑے گا اور یا بیوی چھوڑنی پڑے گی۔اور اگر بالفرض وہ یہاں آ جائے گی تو وہ اُسے ایسے لوہے کے چنے چبوائے گی کہ وہ پنی اس حرکت پر پچھتائے گا اور ربوہ والے بھی چیخ اٹھیں گے کہ اس عورت سے ہمیں بچاؤ۔وہ جس مجلس میں بھی جائے گی ناک بھوں چڑھائے گی اور کہے گی کہ یہ کیسا گندہ ملک ہے۔یہاں یہ رواج ہے کہ عورتیں بڑے خاندان کی ہوں یا چھوٹے خاندان کی وہ غریب عورتوں