خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 84

$1956 84 خطبات محمود جلد نمبر 37 روحانی لحاظ سے طاقتور ہوگا تو وہ بیوی کی کم پروا کرے گا اور خدا تعالیٰ کی زیادہ کرے گا اور اگر کوئی مبلغ ایسا ہے جو بیوی کی زیادہ پروا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کام کی کم پروا کرتا ہے تو ایسا شخص مبلغ کہلانے کا مستحق ہی نہیں۔لیکن اس سے قطع نظر ایک اور سوال ہے جو مجھے متفکر کر رہا ہے اور وہ یہ کہ ہمیں کچھ عرصہ کے بعد مرکز میں کام کرنے کے لیے کارکنوں کی ضرورت ہو گی اور بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مبلغ ہی زیادہ تجربہ کار ہوں گے۔اس لیے اُنہی کو یہاں بلا کر مرکزی کاموں پر لگانا پڑے گا۔اگر مبلغوں نے باہر شادیاں کر لیں تو اُن کی بیویاں یہاں نہیں آئیں گی۔وہ اڑ بیٹھیں گی اور کہیں گی کہ ہم اس ملک میں نہیں رہ سکتیں، ہم کچے مکانوں میں گزارہ نہیں کہ سکتیں، ہمیں وہاں کا تمدن پسند نہیں ، ہمیں فلش سسٹم کی ضرورت ہے لیکن وہاں اس کا رواج نہیں۔پھر وہاں اچھے اخراجات والی کمیٹی نہیں جو ہر وقت شہر کو بقعہ نور بنائے رکھے۔آخر اُس نے زندگی وقف نہیں کی۔اُس نے صرف ایک واقف زندگی سے شادی کی ہے۔اس لیے اُسے یہاں آنے پر مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا۔پس میرے نزدیک جتنے مبلغ یورپ میں شادیاں کریں گے وہ مرکز کے کسی کام نہیں آ سکتے۔وہ مرکز سے یقیناً کھوئے جائیں گے۔حالانکہ واقفین کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مرکز کے کاموں کو سنبھالیں۔اور جو واقف زندگی یورپ میں شادی کر لیتا ہے وہ مرکز میں رہ کر کام نہیں کر سکتا۔اس لیے میرے نزدیک جن مبلغین نے یورپ میں شادیاں کی ہیں وہ مرکز سے کھوئے گئے ہیں۔ہاں! جن مبلغین نے عرب ممالک میں شادیاں فلسطین کی ہیں اُن کے لیے مرکز میں رہ کر کام کرنا مشکل نہیں۔مثلاً مولوی محمد شریف صاحب فہ سے شادی کر کے لائے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ انہیں یہاں رہنے میں کوئی دقت نہیں ہو گی۔جہاں تک اُن کی بیوی کے متعلق مجھ پر اثر ہے میں یہی سنتا ہوں کہ وہ یہاں کی جماعت میں ملتی جلتی ہیں اور یہاں کے تمدن کو وہ اختیار کر رہی ہیں۔لیکن یورپین عورتوں کے لیے اس تمدن میں رہنا بہت مشکل ہے اس لیے مبلغین کا یہ خیال کر لینا بالکل غلط ہے کہ وہ مرکز کے بُلانے پر اپنی بیوی کو ساتھ لے کر آجائیں گے اور وہ انہیں یہاں ناظر، نائب ناظر، وکیل یا نائب ولی وکیل کے طور پر کام کرنے دے گی۔ان کا یہ خیال نہ صرف خیالِ خام ہے بلکہ میں انہیں