خطبات محمود (جلد 37) — Page 86
$1956 86 خطبات محمود جلد نمبر 37 سے نفرت نہیں کرتیں بلکہ انہیں پاس بٹھاتی ہیں لیکن یورپین عورت کے پاس اگر کوئی غریب عورت آئے گی تو وہ نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کہے گی اس کے کپڑے گندے ہیں۔اس لیے اسے پاس بٹھانا میری شان کے خلاف ہے۔پس طلباء کے سامنے یہ بڑا اہم سوال ہے کہ اگر وہ باہر جاتے ہیں تو ان کے لیے نہایت مشکل امر ہے کہ شادی کے بغیر لمبا عرصہ وہاں رہ سکیں۔اور اگر وہاں شادی کرتے ہیں تو ہمارے کام کے نہیں رہتے۔۔پھر اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ اگر اُن کے بیوی بچوں کو ان کے ہمراہ بھیجا جائے تو اخراجات اتنے زیادہ ہو جائیں گے کہ مرکز معطل ہو کر رہ جائے گا۔خدا تعالیٰ نے وقف کے ساتھ کچھ ایسی برکت رکھی ہے کہ جس واقف زندگی کے متعلق بھی پوچھو اُس کے سات آٹھ سے کم بچے نہیں ہوتے۔میں نے انڈونیشیا کے ایک مبلغ کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ اُس کے گیارہ بچے ہیں۔اب اگر گیارہ بچوں کو مبلغ کے ساتھ بھیجا جائے تو مرکز کا دیوالہ نکل جائے گا۔پس تم اس بات کو یاد رکھو کہ شادی کرنا ایک مسلمان کے لیے بہر حال ضروری ہے لیکن زیادہ بچے پیدا کرنا ضروری نہیں۔قرآن کریم نے ضبط تولید سے صرف اس صورت میں منع کیا ہے جب کسی شخص کا یہ فعل خشیت اطلاق کی وجہ سے ہو۔1 یہ کہیں نہیں لکھا کہ تم دین کی خاطر بھی ضبط تولید نہیں کر سکتے۔اگر تم خشیت اطلاق کی وجہ سے بچے پیدا کرنے میں احتیاط سے کام لیتے ہو تو قرآن کریم اس سے منع کرتا ہے ن اگر تم یہ احتیاط اس لیے کرتے ہو کہ اس سے تمہاری تبلیغ میں آسانی ہو گی اور سلسلہ زیادہ بار نہیں پڑے گا تو قرآن کریم اس سے منع نہیں کرتا۔قرآن کریم صرف اُس وقت منع کرتا ہے جب ایسا کرنا تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے ہو۔لیکن اگر کوئی واقف اس لیے بچے پیدا کرنے میں احتیاط کرتا ہے کہ تبلیغ میں آسانی ہو تو یہ بات نہ صرف منع نہیں بلکہ اس کے لیے ثواب کا موجب ہے۔اسی طرح جب سے ہوائی جہاز نکل آئے ہیں مبلغین نے مرکز سے لڑنا شروع کر دیا ہے کہ ہمارے لیے ہوائی جہاز میں سیٹ ریزرو ہونی چاہیے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سال تو ایسا گزرا کہ مبلغین کے سفر کے اخراجات زیادہ ہو جانے کی وجہ سے بجٹ ہی ختم ہو گیا