خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 40

$1956 40 خطبات محمود جلد نمبر 37 میں بہت زیادہ فرق ہے۔لیکن پھر بھی حکومت کو کام کرنے والے آدمی ملتے رہتے ہیں۔ہمارے ہاں تو کھانا بہت سادہ ہوتا ہے لیکن وہاں شراب کے ہی ایک گلاس پر اتنا خرچ آ جاتا ہے کہ ہم اُسی خرچ میں ہفتوں گزارہ کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں لوگ قومی کاموں کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرتے ہیں۔پس تم ان باتوں پر غور کرو اور پھر مجھے بتاؤ کہ تم نے غور کرنے کے بعد کونسی صورت نکالی ہے کہ جس کے ذریعہ جماعت میں قومی خدمت کا جذبہ قیامت تک قائم رہے۔اسی طرح جامعتہ المبشرین کے وہ طلباء جو آئندہ شاہد بننے والے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ دوسرے کالجوں کے طلباء سے بھی دوستی پیدا کریں تا کہ اُن کے خیالات میں تنوع پیدا ہو۔کیمبرج، آکسفورڈ اور قرطبہ کے کالجوں کو یادریوں اور مولویوں نے ہی شروع کیا تھا اور وہی ابتدا میں پڑھایا کرتے تھے لیکن اب ہمارے علماء یونیورسٹیاں اور کالج بنانے کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اب وہ لوگ کالج بنا رہے ہیں جن کا صرف تنظیم سے تعلق ہے علم سے تعلق نہیں۔اگر علماء اپنے فرائض کی طرف توجہ کرتے تو یہ اُن کا کام تھا کہ کالج بناتے اور لوگوں میں تحریک کر کے ان میں جوش پیدا کرتے۔یہ کوئی نئی بات نہیں جو میں اس وقت کہہ رہا ہوں۔مسلمانوں میں ایسے علماء گزرے ہیں جنہوں نے باقاعدہ کالج چلائے اور قوم میں ایسے نوجوان تیار کیے جنہوں نے بعد میں اسلام کی بڑی خدمت کی۔ایران کے ایک عالم نے اپنے شاگردوں میں سے چھ سو مبلغ ہندوستان میں تبلیغ کے لیے بھجوائے تھے۔پھر خواجہ معین الدین صاحب چشتی نے سینکڑوں آدمی تبلیغ اسلام کے لیے تیار کیے جنہوں نے ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کی۔آخر کیا وجہ ہے کہ تم میں یہ روح نہیں پائی جاتی اور کیا وجہ ہے کہ تم اس روح کو دائمی طور پر قائم رکھنے کے لیے ایسے شاگرد پیدا نہیں کرتے جو دین کی خدمت کے لیے آگے آئیں حالانکہ تمہارا بھی فرض تھا کہ تم ایسے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چل کر ایسے شاگرد تیار کرتے جو اسلام کا جھنڈا اکناف عالم میں بلند کرتے اور اشاعتِ علوم کا فریضہ بجالاتے۔یاد رکھو! جماعت میں علوم کو جاری رکھنا اور علمی کتب کی تصنیف کا سلسلہ جاری رکھنا تمہارا فرض ہے۔میں نے یہاں اشاعتِ کتب کے لیے دو کمپنیاں بنائی تھیں مگر وہ کام کو