خطبات محمود (جلد 37) — Page 39
$1956 39 خطبات محمود جلد نمبر 37 آخر اس جماعت نے قیامت تک چلنا ہے اور اگر اسے کام کرنے والے نہ ملے تو یہ قیامت تک چلے گی کیسے؟ ہمارے ہاں تو چاہیے تھا کہ اگر ایک کارکن ریٹائر ہوتا یا فوت ہوتا تو اُس کی جگہ ہیں ہیں کام کرنے والے مل جاتے اور اس طرح کام جاری رہتا۔لیکن اب یہ حالت۔کہ ایک ناظر مرتا ہے تو دو دو نسل تک اُس کا قائم مقام نظر نہیں آتا۔آخر تم سوچو کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ کونسا گناہ ہے جو ہم نے کیا ہے اور عیسائیوں نے نہیں کیا؟ وہ کونسی کو تا ہی ہے جو ہم سے سرزد ہوئی ہے لیکن عیسائیوں سے وہ سرزد نہیں ہوئی؟ اُن کے ہاں جب کوئی کارکن ریٹائر ہوتا ہے یا مرتا ہے تو قوم کے بیسیوں نوجوان اُس کی جگہ لینے کے لیے آ جاتے ہیں مگر ہماری جماعت میں ایسا نہیں۔یہاں بیسیوں سال تک قائم مقام نہیں ملتا۔مثلاً انگلستان میں چار سو سال سے فوج کے بڑے بڑے عہدوں پر نواب مقرر ہوتے ہیں جن کی تنخواہوں سے زیادہ اُن کی پرائیویٹ آمد نہیں ہوتی ہیں اور اُن سے وہ اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ہمارے ہاں بھی ایسے امیر لوگ ہیں جو اپنی اولاد کو قومی خدمت میں لگا سکتے ہیں اور پھر اُن کے اخراجات بھی مہیا کر سکتے ہیں لیکن یہاں امراء کو وقف کی طرف توجہ ہی نہیں ہوتی۔اور اگر کوئی غریب خاندان میں سے زندگی وقف کر کے آجاتا ہے تو امراء اُس کی عزت نہیں کرتے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ تو قابل فخر بات تھی کہ جب کوئی کام کرنے والا موجود نہ تھا تو یہ لوگ آگے آگئے اور انہوں نے دین کا کام سنبھال لیا۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ ان باتوں پر غور کریں اور نہ صرف اپنی اصلاح کریں بلکہ اپنے دوستوں کی بھی اصلاح کریں۔یورپ میں یہ قاعدہ ہے کہ نوجوان کسی ایک خیال کو لے لیتے ہیں اور پھر اُس کی تحریک دوسرے نوجوانوں میں کر کے ایک سوسائٹی بنا لیتے ہیں۔اسی طرح یہاں بھی ہونا چاہیے۔انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے سپرد تو اور بھی کئی اہم کام ہیں۔یہ تمہارا فرض ہے کہ تم غور کرو اور سوچو اور اس کے بعد کسی ایک خیال کو لے کر اپنی سوسائٹی بنا لو۔اور اُس خیال کو دوسرے نوجوانوں میں رائج کرنے کی کوشش کرو اور انہیں بتاؤ کہ تمہارا فرض ہے کہ تم جماعت کے کاموں کو رُکنے نہ دو بلکہ انہیں پوری طرح جاری رکھنے کی کوشش کرو۔یہ کہنا کہ یہاں تنخواہ کم ملتی ہے درست امر نہیں۔یورپ میں گورنمنٹ کی تنخواہوں اور پرائیویٹ فرموں کی تنخواہوں