خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 41

$1956 41 خطبات محمود جلد نمبر 37 پوری طرح ادا نہیں کر رہیں۔ایک دو کتابیں شائع کرنے کے بعد سو جاتی ہیں۔جو کتابیں اس وقت تک لکھی جا چکی ہیں وہ بھی ابھی تک شائع نہیں ہوسکیں۔یورپ والے دوسو سال کی پرانی کتاب بھی شائع کر دیتے ہیں اور اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اُسے کوئی خرید تا ہے یا نہیں۔اُن کا صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ وہ کتاب دنیا میں موجود رہے۔لیکن ہمارے ہاں رواج ہے کہ جو کام بھی کوئی شخص کرے گا تجارتی نقطہ نگاہ سے کرے گا۔مثلاً اگر اس کے سپرد دین کی کوئی خدمت کی جائے گی تو وہ فوراً کہے گا اس کے بدلہ میں مجھے کیا ملے گا؟ اگر وہ کوئی کتاب لکھے گا تو پہلے یہ سوچے گا کہ اس سے مجھے کتنا منافع ملے گا۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی سرد ملک کا آدمی تیز دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اُس کے پاس سے کوئی شخص گزرا۔اُس نے اُسے دھوپ میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا میاں! اتنی تیز دھوپ میں کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ پاس ہی سایہ ہے یہاں آ کر بیٹھ جاؤ۔اُس نے اپنے ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا اگر میں سایہ میں بیٹھ جاؤں تو تم مجھے کیا دو گے؟ یہی حالت ہمارے لوگوں کی ہے کہ وہ جو کام بھی کریں گے کسی دنیوی فائدہ کے پیش نظر کریں گے اور کہیں گے کہ آپ ہمیں دیں گے کیا؟ حالانکہ ان کی کسی خدمت کے نتیجہ میں یا کسی کتاب کی تصنیف کے نتیجہ میں جو فائدہ قوم کو پہنچے گا وہ کوئی کم فائدہ نہیں۔اگر کوئی شخص اپنی قوم کے بعض افراد کو پڑھاتا ہے اور انہیں تعلیم دیتا ہے اور اس کی کوشش کے نتیجہ میں قوم میں تعلیم کی اشاعت ہوتی ہے تو اس سے زیادہ تنخواہ اور کیا ہو گی۔پس میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ جماعت میں اشاعت علوم کی روح کو قائم رکھیں اور سوچیں کہ ہماری کمزوریوں کے دور کرنے کے کیا ذرائع ہیں۔اور ایسی سکیمیں تیار کریں جن پر عمل پیرا ہو کر جماعت کے کاموں کو ترقی دی جا سکتی ہو۔کل کو وہ بھی کی بڑے بننے والے ہیں۔اگر آج ان کا استاد پچاس سال کا ہے اور وہ تمہیں سال کے نوجوان ہیں تو میں سال گزرنے کے بعد وہ بھی پچاس سال کے ہو جائیں گے اور ان کے کندھوں پر جماعت کا بوجھ آ پڑے گا۔اگر آج سے انہوں نے اس کام کے لیے تیاری شروع نہ کی تو پچاس سال کی عمر میں ان کے دل بھی ویسے ہی گڑھیں گے جیسے اب میرا