خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 280

$1956 280 خطبات محمود جلد نمبر 37 6* مہینہ میں دوستوں نے تحریک جدید کے وعدوں کی ادائیگی کی طرف توجہ کی ہے اگر اسی طرح انہوں نے اگست میں بھی توجہ کی تو ہمیں امید ہے کہ ہم اگست کے آخر تک اپنے بجٹ کا تمام روپیہ پورا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔اسی طرح پاکستان سے باہر کی جماعتوں نے بھی اس چندہ میں خاص طور پر حصہ لیا ہے۔چنانچہ اس وقت تک نو سو پاؤنڈ کے قریب بیرونی جماعتوں نے جمع کر دیا ہے اور ابھی بہت سی جماعتوں کے چندے ایسے ہیں جو اس میں شامل نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی اپنی جماعت کے کاموں کو سدھارتا ہے۔لیکن جہاں مجھے دوستوں کی اس توجہ سے خوشی ہوئی وہاں مجھے ایک رنج بھی پہنچا۔آخر وہ لوگ جنہوں نے جولائی میں اپنے وعدے پورے کیے ہیں اُن کے پاس کوئی روپے تو جمع نہیں تھے۔انہوں نے بہر حال اس کے لیے قرضے لیے ہیں۔اگر ان کے پاس روپیہ جمع ہوتا تو وہ کی پہلے کیوں نہ دے دیتے۔پس اب اِس ادائیگی کی وجہ سے اُن پر یقینا قرض کا ایک بوجھ آ پڑا ہے۔اس لیے میں نے پہلے بھی جماعت کے دوستوں کو بارہا توجہ دلائی ہے اور اب پھر توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے اخراجات کو ایسے رنگ میں کم کرنے کی کوشش کریں کہ جماعتی چندے سہولت کے ساتھ ادا کر سکیں ورنہ کسی خاص مہینہ میں آکر اپنے اوپر بوجھ ڈالنے کے معنے ہوتے ہیں کہ پانچ چھ مہینے اس قرض کے ادا کرنے کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں کی صحت کو خراب کر دیا جائے کیونکہ جو شخص کسی سے قرض لے کر چندہ دے گا اُس نے خود روپیہ پس انداز نہیں کیا ہو گا۔اسے قرض خواہ چھوڑے گا نہیں۔نتیجہ یہ ہوگا کہ اُسے غیر معمولی طور پر اپنے اخراجات کم کرنے پڑیں گے اور اس طرح اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی صحت کو وہ نقصان پہنچائے گا۔اگر اپنی آمد میں سے ہی وہ چندہ ادا کرنے کی کوشش کرتا اور غیر ضروری اخراجات کو ی کم کر دیتا تو جلدی ادا کرنے کی وجہ سے اُسے ثواب بھی زیادہ ملتا اور قرض کی مصیبت سے بھی جاتا۔لیکن جب وہ قرض لے کر چندہ ادا کرتا ہے تو بیشک اس میں نیکی تو ہوتی ہے لیکن اسے ذلیل بھی ہونا پڑتا ہے۔کیونکہ قرض دینے والا بعض دفعہ بختی پر اتر آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرا قرض جلد واپس کرو۔پھر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو قرض لینے میں تو دلیر ہوتے ہیں مگر واپس کرنے میں سُست ہوتے ہیں۔گو مومن ایسی حالت میں صبر سے کام لیتا