خطبات محمود (جلد 37) — Page 281
$1956 281 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور اپنے نفس پر تنگی برداشت کر کے خاموش ہو جاتا ہے۔چنانچہ ابھی ایک دوست نے لکھا کہ مسجد ہیمبرگ کے لیے میں نے کچھ چندہ دیا تھا لیکن میں نے یہ نیت کی ہوئی تھی کہ ایک سو پچاس روپیہ اور بھی دوں گا اور یہ نیت میں نے اس لیے کی تھی کہ ایک دوست نے مجھے۔ایک سو پچاس روپے قرض لیا تھا۔میں سمجھتا تھا کہ وہ وصول ہو گئے تو مسجد ہیمبرگ کے لیے دے دوں گا۔لیکن انہوں نے ادا نہ کیے۔اس ہفتہ میں میں نے سمجھا کہ مجھے ابھی سے اُن کا کرنا چاہیے اور تنخواہ ملنے پر فوراً اُن کے پاس پہنچ جانا چاہیے تا کہ وہ روپیہ ادا کر چنانچہ میں ان کے پاس گیا مگر جب میں وہاں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی تنخواہ خرچ کر چکے ہیں۔اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ کسی اور دوست سے قرض لے کر مسجد کے لیے دے دوں تاکہ میں نے جو نیت کی ہوئی ہے وہ پوری ہو جائے۔گویا اس طرح ان پر دُہری مصیبت آ گئی۔ایک طرف تو انہیں یہ کوشش کرنی پڑے گی کہ جس نے اُن سے قرض لیا تھا اُس سے وہ اپنا قرض وصول کریں اور دوسری طرف جس سے اب قرض لیں گے وہ ان کی پر سوار ہو گا اور کہے گا کہ میرا قرض جلد ادا کریں اور اس طرح خوامخواہ ان کی گردن جان ہلکان ہو گی۔پس اصل طریق یہی ہے کہ انسان اپنے اخراجات کو ایسے رنگ میں کم کرے کہ خود بخود بچت ہوتی چلی جائے اور وہ آسانی سے سلسلہ کے چندے ادا کر سکے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ شامل کیا جائے اور انہیں کہا جائے کہ میں نے اتنا خدا کا حق دینا ہے تم بھی میرا ساتھ دو اور مل کر اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کرو تا کہ یہ بوجھ اُتر جائے۔پھر اپنے اُن دوستوں تک بھی جو ابھی ہماری جماعت میں شامل نہیں یہ بات برابر پہنچاتے رہو کہ غیر ممالک میں ہماری جماعت کے ذریعہ اسلام کی عظیم الشان خدمت ہو رہی ہے اور مساجد تیار کی جارہی ہیں تم بھی مسلمان ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو بلند کرنا چاہتے ہو، اگر تم ثواب لینا چاہتے ہو تو تم بھی اس نیک کام میں شریک ہو جاؤ اور ہمیں چندہ دو تا کہ خدا کا نام بلند ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دنیا پر ظاہر ہو۔