خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 250

$1956 250 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ وہ نہ نفع اپنے اختیار میں رکھتے ہیں اور نہ ضرر 2 یہی حال انسانوں کا ہے۔وہ کسی کی تعریف کر کے اگر اسے آسمان پر بھی چڑھا دیں تو وہ آسمان پر نہیں چڑھ سکتا اور اگر زمین پر۔گرا دیں تو وہ زمین پر گر نہیں سکتا۔پس ان کا کچھ کہنا بیوقوفی ہوتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ بعض لوگ کہلاتے تو مسلمان تھے مگر ہوتے منافق تھے۔اور وہ بعض دفعہ تعریفی الفاظ بولتے تھے مگر اُن کی مراد مذمت کرنا ہوتی تھی۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ یہودی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور کہتے تھے کہ رَاعِنَا - 3 اب رَاعِنَا کے لفظا یہ معنے ہوتے ہیں کہ ہم بھی آپ کی بڑی عزت کریں گے آپ بھی ہماری رعایت کریں اور ہمیں اپنی باتیں سننے کا موقع دیں۔مگر مفسرین لکھتے ہیں کہ وہ ذرا لہجہ بدل کر رَاعِنَا کی بجائے رَاعِيُنَا کہہ دیا کرتے تھے۔جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ تو بڑا متکبر اور مغرور ہو گیا ہے۔اب بظاہر تو یہی دکھائی دیتا کہ وہ یہی کہہ رہے ہیں کہ آپ بڑے معزز ہیں۔آپ ہمیں بھی موقع دیں کہ ہم آپ کی باتیں سنیں مگر وہ کہتے یہ تھے کہ اس شخص کا دماغ خراب : گیا ہے اور یہ بڑا متکبر اور مغرور ہو گیا ہے۔ہو اسی طرح بعض دفعہ وہ اور الفاظ استعمال کرتے جو بظاہر تعریفی نظر آتے تھے مگر در حقیقت ان کا مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت کرنا ہوتا تھا۔اور پھر وہ کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو ہم نے اس سے جو یہ چالا کی کی ہے اس کی اللہ تعالیٰ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا 4 مگر خدا کی شان دیکھو کہ آدمی بھی وہی ہے، اُس کا درجہ بھی وہی ہے، اُس کی شان بھی وہی ہے، اس کو بھیجنے والا خدا بھی وہی ہے لیکن ایک زمانہ میں مسلمان کہلانے کی والے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرید کہلانے والے آپ کی ایسی تعریف کرتے تھے جو جھوٹی ہوتی تھی اور گو وہ ظاہر یہ کرتے تھے کہ وہ آپ کے بڑے معتقد اور جاں نثار ہیں مگر اپنے دل میں مختلف قسم کی کپٹ اور کینہ وغیرہ رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن کا ظاہری اخلاص اُن کے کسی کام نہیں آ سکتا کیونکہ وہ منافق ہیں اور ظاہر کچھ کرتے ہیں اور ان کے باطن میں کچھ اور ہے۔مگر اب امت بھی وہی ہے، نام بھی وہی ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی کا دعوی بھی وہی ہے مگر زمانہ کا نقشہ کیسا بدل گیا ہے۔اُس زمانہ میں منافق منہ