خطبات محمود (جلد 37) — Page 251
$1956 251 خطبات محمود جلد نمبر 37 تعریف کرتا تھا اور دل میں مذمت اور تحقیر کے جذبات رکھتا تھا اور سمجھتا تھا کہ میں غلط تعریف کر رہا ہوں مگر اب مسلمانوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو یہاں تک کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر کہنا آپ کی بڑی ہتک ہے۔وہ بشر نہیں تھے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرح عالم الغیب تھے اور دل میں بھی سمجھتے ہیں کہ یہی بات سچ ہے۔گویا کہ اس زمانہ میں منافق جب کوئی غلط اور بے جا تعریف کرتا تھا تو دل میں سمجھتا تھا کہ میں غلط تعریف کر رہا ہوں۔یہ اس تعریف کے مستحق نہیں۔مگر آج مسلمان آپ کی تعریف بھی بے جا کرتا ہے اور پھر دل میں بھی یہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں بلکہ وہ یہاں تک زور دیتا ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر سمجھتا ہے وہ کافر ہے۔غرض زمانہ کیسا بدل گیا ہے اور کتنا بڑا تغیر دنیا میں واقع ہو چکا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے زمانہ میں زندہ تھے، جب آپ کی شان اور عظمت سارے عالم پر ظاہر تھی، جب آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزات ظاہر ہو رہے تھے اُس وقت منافق آپ کے متعلق ایسے الفاظ بولتے تھے جو بظاہر تعریفی ہوتے تھے مگر دل میں وہ سمجھتے تھے کہ یہ بات نہیں۔ہم آپ کی جھوٹی تعریف کر رہے ہیں۔گویا کبھی تو وہ ایسی تعریف کرتے تھے جو خدا نے نہیں کی اور آپ کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتے تھے جو خدا نے نہیں کیے۔اور کبھی وہی لفظ بولتے تھے جو خدا نے بولے۔لیکن دل میں نہ انہیں اپنی تعریف کی سچائی کا یقین ہوتا تھا اور نہ وہ خدائی الفاظ کی کوئی حقیقت سمجھتے تھے۔مثلاً قرآن کریم میں آتا ہے کہ منافق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور آ کر کہتے تھے کہ ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔5 گویا وہ لفظ وہ بولتے تھے جو مومن بھی بولا کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو درست ہے کہ تو ہمارا رسول ہے مگر مجھے اپنی ذات ہی کی قسم کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں 6 کیونکہ یہ دل میں تجھے خدا کا رسول نہیں سمجھتے۔گویا تین گروہ ہو گئے۔ایک گروہ وہ تھا جو وہی لفظ بولتا تھا جو خدا نے بولے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ نے کہا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ وہ الفاظ تو درست استعمال کرتے تھے مگر دل میں ایمان نہیں رکھتے تھے۔