خطبات محمود (جلد 37) — Page 155
$1956 155 خطبات محمود جلد نمبر 37 یہ غلامی بادشاہت سے بھی پیاری ہے۔ہم نے آپ کو اپنا آقا اور مطاع تسلیم کیا ہے۔کسی کا نے ہم پر جبر نہیں کیا۔اگر جبر کیا ہے تو خود ہم نے اپنے نفس پر کیا ہے۔پس اب جبکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے ملک کو آزادی دی ہے تو جہاں خوشی مناؤ وہاں۔بھی دعائیں کرو کہ خدا تعالی پاکستان میں رہنے والوں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ان میں ہمیشہ ہمیش کے لیے نیکی کا عنصر غالب رہے۔اور ایمان اور تقوی رکھنے والے لوگ آگے آئیں اور اپنے نمونہ کی وجہ سے ایسا نیک اثر پیدا کریں کہ ان کے ہمسایہ میں رہنے والے غیر مذاہب کے لوگ بھی انہیں کہیں کہ ہم اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں، تم ہمیں اپنے مذہب میں شامل کر لو۔تاریخوں میں لکھا ہے ایک دفعہ قیصر نے اپنا ایک سفیر حضرت عمرؓ کے پاس بھیجا۔وہ مسلمانوں کے نمونہ کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہوا کہ حضرت عمر سے کہنے لگا آپ مجھے اسلام میں داخل کر لیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا تم یہاں سفیر بن کر آئے ہو۔اگر میں تمہیں اسلام میں داخل کر لوں تو اس کا یہ مطلب سمجھا جائے گا کہ ہم نے تم پر جبر کیا ہے۔اس لیے میں اس وقت تمہیں اسلام میں داخل نہیں کر سکتا۔اگر تم پر اسلام کی صداقت کھل چکی ہے تو اپنے ملک میں واپس جا کر اسلام قبول کر لینا۔پس دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ نے جو ہمیں احسن تقویم بخشی ہے وہ قیامت تک قائم رہے اور لَهُمْ أَجْرُ غَيْرُ مَمْنُونٍ 14 کے ماتحت ہمیں وہ انعام ملیں جو کبھی منقطع نہ ہوں۔ہماری مملکت مٹنے والی نہ ہو۔ہماری قوم تباہ ہونے والی نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ ہمیں اُن کی لوگوں میں رکھے جن پر وہ اپنا سایہ رکھتا ہے اور ہم میں سے ہر فرد اس طریق کو اختیار کرے جس طریق کے اختیار کرنے والے پر خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت اور برکت نازل کرنے کا وعدہ کی 66 فرمایا ہے۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: نماز جمعہ کے بعد میں بعض جنازے پڑھاؤں گا۔(1) ملک علی بخش صاحب آف بھوپال حال لاہور۔87 مارچ کی درمیانی شب کہ