خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 156

$1956 156 خطبات محمود جلد نمبر 37 وفات پاگئے ہیں۔8 مارچ کو ان کا جنازہ یہاں لایا گیا اور میں نے وعدہ بھی کیا کہ میں جنازہ پڑھاؤں گا لیکن خطبہ جمعہ کے بعد میں بھول گیا اور گھر چلا گیا۔آج میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔ملک صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے اور ہم ابھی بچے ہی تھے کہ وہ ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھے اور پھر وہاں کئی سال تک رہے۔اُس وقت وہ اوورسیئر تھے۔آجکل تو اوور سیئر معمولی عہدہ سمجھا جاتا ہے لیکن اُس زمانہ میں اس کی بہت زیادہ قدر و منزلت تھی۔قادیان آکر انہوں نے ایک مکان خریدا اور کافی سرمایہ صرف اس لیے خرچ کی کیا کہ الحکم کو روزانہ کیا جائے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں لوگوں تک پہنچتی رہیں۔ملک صاحب پرانے احمدی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔(2) ساره بیگم صاحبه والده عبدالرحمان صاحب اتالیق ربوہ فوت ہو گئی ہیں۔بوجہ بارش جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔(3) شاه محمد صاحب چک نمبر 213 ضلع رحیم یار خاں فوت ہو گئے ہیں۔جنازہ میں کوئی احمدی بھی شریک نہ ہو سکا۔(4) چوتھا جنازہ جو بہت تکلیف دہ ہے کابل کے ایک احمدی دوست داؤد جان صاحب کا یه مخلص دوست جلسہ پر ربوہ آئے تھے۔واپس گئے تو بعض لوگوں نے ان کی شکایت ہے۔حکام کے پاس کر دی۔انہوں نے بلا کر دریافت کیا کہ کیا تم ربوہ گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں ربوہ گیا تھا۔اس پر انہیں قید کر دیا گیا مگر ان کی قوم کی اس سے تسلی نہ ہوئی۔چنانچہ ایک بہت بڑے ہجوم نے قید خانہ پر حملہ کر دیا اور اس کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں اور پھر انہیں نکال کر باہر لے گئے اور کھلے میدان میں انہیں کھڑا کر کے شہید کر دیا۔مرنا تو سب نے ہے لیکن اس قسم کی موت بہت دکھ اور تکلیف کا موجب ہوتی ہے اور مارنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اُنصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا 15 کہ تو اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم - ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ ! مظلوم کی مدد تو سمجھ میں آ گئی لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟