خطبات محمود (جلد 37) — Page 541
$1956 541 خطبات محمود جلد نمبر 37 چونکہ ہندو یہاں نہیں ہیں اس لیے اگر ان کو ہم جواب دیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔میں نے ی کہا ہے کہ تم ہندوؤں کے لیے الگ کتاب لکھو اور عیسائیوں کے لیے الگ لکھو۔عیسائیوں کے لیے اس لیے لکھو کہ کتاب کا اصل لکھنے والا امریکہ کا رہنے والا تھا اور ہندوؤں کے لیے اس یے لکھو کہ اس کا اردو میں ترجمہ کر کے شائع کرنے والا ہندو ہے اور ضروری ہے کہ ہندوؤں میں اس کے پھیلائے ہوئے زہر کا ازالہ کیا جائے۔پس میں نے انہیں ہدایت دی ہے کہ تم ایک کتاب ایسی لکھو جس کے ایک حصہ میں اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کا تحقیقی جواب ہو اور دوسرے حصہ میں عیسائیت کے متعلق الزامی جواب ہو۔اسی طرح ایک دوسری کتاب لکھو جس کے ایک حصہ میں اعتراضات کے تحقیقی جوابات ہوں اور دوسرے حصہ میں ہندو مذہب کو مخاطب کر کے اُن کے الزامی جوابات ہوں۔سو تار بھی آئی ہے اور خط بھی آ گیا کی ہے کہ کتاب لکھی جا رہی ہے جو عنقریب شائع ہو جائے گی اور پھر اُس کا ترجمہ اردو زبان میں شائع کر دیا جائے گا۔یہ جواب گالیاں دینے اور شور مچانے سے زیادہ مؤثر ہو گا۔جب یہ جواب امریکہ میں شائع ہو گا اور جب اُس کا ترجمہ ہندوستان میں شائع ہو گا تو عیسائیوں کو بھی پتا لگ جائے گا اور ہندوؤں کو بھی پتا لگ جائے گا کہ شیش محل میں بیٹھ کر پتھر مارنا بڑھا نقصان دہ ہوتا ہے۔دیکھو انگریزوں اور فرانسیسیوں نے سمجھا کہ مصر ہم سے چھوٹا ہے اس لیے وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔چنانچہ انہوں نے اسرائیل سے مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔اپنے خیال میں تو انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ مصر ہمارا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے لیکن اُن کے حملہ کرنے کی وجہ سے امریکہ نے جو اُن کا پرانا دوست ہے ساتھ چھوڑ دیا۔اور دوسری طرف روس نے کہا کہ اگر تم نے مصر سے اپنی فوجیں نہ نکالیں تو ہم بھی اپنی فوجیں مصر میں داخل کر دیں گے۔ادھر روس نے شام میں ہوائی جہازوں سے اپنی فوجیں اُتارنی شروع کیں اور اُدھر انگریز بھاگنے شروع ہوئے۔گویا اُن کی مثال بالکل اُس چور کی سی ہوئی جو کسی گھر میں چوری کر رہا ہو لیکن جب پولیس آئے تو وہ بھاگنا شروع کر دے۔انگریز اور فرانسیسی بڑے غرور کے ساتھ مصر میں داخل ہوئے اور امریکنوں کو انہوں نے دھمکی دی کہ ہم نے مصر میں بہر حال لڑنا ہے، ہمارے حقوق