خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 539

خطبات محمود جلد نمبر 37 539 $1956 سال کے آخر میں چندے کی مقدار میں ایک پیسہ بھی کمی ہو دشمن کو شور مچانے کا موقع ملے گا اور وہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ اس نے جو کہا تھا کہ جماعت میں بغاوت پیدا ہو رہی ہے وہ ٹھیک ثابت ہوا ہے۔لیکن بات وہی ٹھیک نکلے گی جو میں نے قرآن کریم سے بیان کی تھی کہ جب واقعی طور پر کچی جماعتوں میں سے کوئی شخص نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے بدلہ میں اور بہت سے آدمی دے دیتا ہے۔1 چنانچہ آج ہی مجھے پاکستان کے ایک اہم شہر سے چٹھی آئی ہے کہ وہاں بہت سے لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف پھر رہی ہے اور تعلیم یافتہ طبقہ میں سے بھی کچھ لوگ احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک بیعت تو مجھے آج ہی آئی ہے ہے اور دو تین بیعتیں میں پہلے بھی دفتر کو بھیج چکا ہوں اور بہت سے لوگ احمدیت کے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔پھر مجھے امریکہ کے قریب کے ایک علاقہ سے تار آئی ہے کہ وہاں نی دو سو آدمی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔گو ساتھ ہی یہ خبر تھی کہ مقابلہ بھی سخت کرنا پڑ رہا ہے اور مخالفت شروع ہو گئی ہے۔لیکن امریکہ جیسے علاقہ میں ایک ہی دن میں دوسو آدمیوں کا احمدیت میں داخل ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں۔اسی طرح اور کئی جگہوں سے اطلاعیں آ رہی ہیں کہ وہاں خدا کے فضل سے اچھے تعلیم یافتہ اور بڑے لوگ احمدیت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ میں نے جو کہا تھا کہ اگر تم سچے مومن ہو اور نکلنے والا واقعی طور پر تمہارے نظام سے کسی دشمنی کی وجہ سے الگ ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اُس کی جگہ پر تمہیں ایک قوم دے دے گا وہ بالکل درست ہے۔اب دیکھ لو جماعت سے نکلنے والے تو زیادہ سے زیادہ آٹھ نو آدمی تھے لیکن ان کے نکلنے کے بعد کئی ہزار لوگ جماعت میں داخل ہوئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے امریکہ جیسے علاقہ میں ایک دن میں دو سو آدمی احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور وہاں کا دوسو آدمی ہمارے علاقہ کے بیس ہزار آدمیوں کے۔کیونکہ اُن کی آمدن ہمارے ملک کے لحاظ سے بہت زیادہ ہے۔اسی طرح بعض اور جگہوں سے بھی ایسی اطلاعات آ رہی ہیں جن سے پتا لگتا ہے کہ شاید تھوڑے ہی عرصہ میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ احمدیت میں داخل ہو جائیں۔پس بات تو وہی پوری ہو رہی ہے ؟ قرآن کریم نے کہی ہے اور جس کا ترجمہ کر کے میں نے آپ لوگوں کو سنایا تھا لیکن ہمیں برابر ہے۔