خطبات محمود (جلد 37) — Page 538
$1956 538 خطبات محمود جلد نمبر 37 ا پہلے تک معلوم ہوا کہ اس سال ایک لاکھ ستاون ہزار کے وعدے آئے ہیں جو گزشتہ سال ایک لاکھ چورانوے ہزار کے تھے۔گویا فرق بہت بڑھ گیا ہے اور دفتر نے شکایت کی ہے کہ دفتر دوم والے لوگ صحیح طور پر وعدے نہیں کر رہے۔مثلاً میرا اعلان یہ تھا کہ گو پانچ روپے دے کر بھی انسان اس میں شامل ہو سکتا ہے مگر ماہوار آمدن کے بیس فیصدی تک چندہ دینا مناسہ ہو گا لیکن اس کے مقابل میں دفتر کی اطلاع یہ ہے کہ سینکڑوں روپیہ ماہوار کمانے والے لوگ بھی پانچ پانچ روپے کا وعدہ کر کے اس دفتر میں شامل ہو رہے ہیں جس کے برخلاف ایک باڈی گارڈ جس کی تنخواہ غالباً پچاسی یا پچانوے روپے ہے اُس نے ایک سو تین کا وعدہ لکھوایا ہے۔یہ بہت بڑا فرق ہے۔دوستوں کو اخلاص بڑھانا چاہیے اور کم سے کم اپنی ماہوار آمدن کی ہیں فیصدی رقم وعدے میں لکھوانی چاہیے۔گو ابھی تحریک جدید کے وعدے آنے میں بہت سا وقت باقی ہے لیکن پھر بھی چونکہ دفتر روزانہ وصول ہونے والے وعدوں کا پچھلے سال کی تاریخوں سے موازنہ کیا کرتا ہے تا کہ جماعت کی روز کی ترقی یا کمزوری کا پتا لگتا رہے۔اس لیے ضروری ہے کہ دوست اپنے وعدے بھجوانے میں سستی سے کام نہ لیں۔جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ آنے والا سال ہمارے لیے ایک نہایت ہی اہم سال ہے کیونکہ دشمن نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا ہوا ہے کہ اب جماعت احمدیہ میں بغاوت پیدا ہوگئی ہے اور جماعت کے نوجوان خلیفہ وقت سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔اگر چہ یہ بالکل جھوٹ بات ہے لیکن بہر حال اگر ایک جھوٹا بہانہ بھی مخالف کو مل جائے تو وہ اس کو بھی بہت بڑھا دیا کرتا ہے۔مثلاً ہم یہاں ربوہ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ہمیں قطعاً کسی منافقت کا علم نہیں لیکن غیر احمدی اخباروں میں روزانہ چھپتا ہے کہ اتنے آدمی خلیفہ کے مخالف ہو گئے ہیں۔جب عبدالمنان امریکہ سے آیا ہے تو صرف تین عیسائی چوڑھے اُس کے استقبال کے لیے اسٹیشن پر آئے ہوئے تھے۔یہ چوڑھے اُس کے گھر کے پاس رہتے تھے۔اس لیے ان کے اس سے تعلقات تھے۔چنانچہ وہ تینوں اس کے استقبال کے لیے اسٹیشن پر آئے لیکن اخباروں میں تاریں چھپیں کہ عبدالمنان کا ربوہ میں عظیم الشان استقبال ہوا اور فضا نعروں سے گونج اُٹھی حالانکہ بات یہ تھی کہ اُس کے ہمسائے میں بھی کسی کو علم نہیں تھا کہ عبدالمنان آیا ہے۔تو چاہے