خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 458

$1956 458 خطبات محمود جلد نمبر 37 چوری نہیں کی۔آخر تنگ آ کر وہ باہر آئے اور کہنے لگے یہ تو مرزائی کافر ہے۔اس کی گواہی کا کیا اعتبار ہے۔تم ہماری بات سنو۔ہم قسم کھا جاتے ہیں۔انہوں نے کہا تم ہزار قسم کھاؤ ہمیں اعتبار نہیں۔یہ ہے تو کافر لیکن بولتا سچ ہے۔تو ساری دنیا مانتی ہے کہ یہ کافر بڑے بچے ہیں، یہ کافر بڑے نیک ہیں۔یہ جو بات کہیں گے صحیح کہیں گے۔پس حقیقت یہی ہے کہ عام مسلمان تو ہمیں پکے مسلمان سمجھتے ہیں صرف کچھ مولوی ہیں جو ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے اور ان مولویوں کی عوام کے مقابلہ میں تعداد کے لحاظ سے نسبت ہی کیا نی ہے۔مولویوں کی تعداد پاکستان میں پانچ چھ سو ہو گی جو احمدیوں سے بھی کئی حصے تھوڑے ہیں۔عام مسلمان ہمیں مرتد سمجھتے تو اُن میں تبلیغ کا جوش پیدا ہو جاتا اور وہ ہم میں سے کئی افراد کو واپس لے جاتے اور پھر دوسری اقوام سے بھی ایک بہت بڑی تعداد کو اسلام میں داخل کر لیتے۔لیکن ان لوگوں میں اسلام کی تبلیغ کا جوش ہی پیدا نہیں ہوا جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ہمیں پکے مسلمان خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے انہیں احمدیت سے مرتد کروا لیا تو یہ خراب ہو جائیں گے اور احمدیت کے قبول کرنے کی وجہ سے جو خوبیاں ان میں پیدا ہو چکی ہیں وہ بھی جاتی رہیں گی۔لاہور میں میرے پاس ایک دفعہ ایک غیر احمدی مولوی رات کے دس بجے آیا اور اُس نے مجھے کہا کہ آپ نے یہ درست نہیں کیا کہ اپنی جماعت کے لوگوں کو ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کر دیا ہے۔اگر آپ انہیں ہمارے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں تو مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہو جائے گا اور ان کی طاقت بڑھ جائے گی۔میں نے کہا مولوی صاحب! یہ فرمائیے کہ آپ رات کے دس بجے میرے پاس آئے ہیں۔اس لیے کہ میں اگر احمدیوں کو آپ لوگوں کے پیچھے نمازیں پڑھنے کی اجازت دے دوں گا تو ان کی طاقت بڑھ جائے گی۔ہم تو تھوڑے سے ہیں پھر ہمارے شامل ہونے سے آپ کی طاقت کیسے بڑھے گی؟ بتائیے ہم تھوڑے ہیں یا نہیں؟ کہنے لگا ہیں تو تھوڑے لیکن آپ تبلیغ بہت کرتے ہیں۔آپ اگر دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل جائیں تو ان کی طاقت بڑھ جائے گی۔میں نے کہا اگر ہم تبلیغ کرتے رہے اور وہ مسلمان ویسے کے ویسے رہے تو اس سے مسلمانوں کو کیا ترقی مل جائے گی؟ اور اگر ہم تھوڑے سے لوگوں