خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 457

$1956 457 خطبات محمود جلد نمبر 37 چوریاں بھی کریں گے، لوگوں کا مال بھی کھائیں گے، زکوۃ بالکل نہیں دیں گے، نماز کے قریب نہیں جائیں گے لیکن تم پھر آ گئے ہو نماز پڑھوانے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ پھر تو بہ کس بات یہ بات جو اب تم مجھ سے کروانا چاہتے ہو یہ تو مرزا صاحب بھی کرواتے تھے۔و لوگ مایوس ہو کر اپنے مولوی کے پاس گئے اور اُسے سارا قصہ سنایا۔اُس نے کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ یہ لوگ بڑے چالاک ہوتے ہیں۔اُس نے تمہیں دھوکا دیا ہے۔تو بات یہی ہے کہ اگر واقع میں احمدی ہونے سے ارتداد ہوتا ہو تو خدا تعالیٰ ایک ایک شخص کے بدلہ میں ایک ایک قوم لے آئے۔لیکن لوگ جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص احمدی ہو جاتا ہے تو وہ اور بھی وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ اس علاقہ کا ایک غریب سا احمدی ہے۔اُس کا سارا خاندان کٹر غیر احمدی تھا۔جب وہ احمدی ہوا تو انہوں نے اُسے خوب مارا اور کہا تم کافر ہو گئے ہو۔لیکن احمدی ہو جانے کے بعد اس میں سچ بولنے کی عادت پیدا ہو گئی اور آہستہ آہستہ اس کے متعلق سارے علاقے میں مشہور ہو گیا کہ یہ شخص سچ بولتا ہے۔اس علاقہ میں چوریاں بہت ہوتی ہیں۔اس کے بھائی بند جانور چرا لایا کرتے تھے۔جس شخص کی چوری ہوتی وہ وہاں آ کر کہتا کہ اگر یہ شخص کہہ دے کہ تم نے چوری نہیں کی تو ہم مان لیں گے ورنہ ہم نہیں مانیں گے۔ایک دفعہ اس کے بھائی ایک بھینس چرا کر لائے۔سارے لوگ اکٹھے ہو گئے اور کہنے لگے کہ کھرا تمہارے ہاں نکلتا ہے۔بھینس تم چرا کر لائے ہو۔اس لیے بھینس دے دو۔انہوں نے کہا خدا کی قسم! ہم نے بھینس چوری نہیں کی۔کہنے لگے تمہاری کون مانتا ہے تم جھوٹے اور دھوکے باز ہو۔فلاں شخص کو لاؤ۔وہ کہہ دے کہ تم نے چوری نہیں کی تو ہم مان لیں گے۔انہوں نے کہا اُس کو ہم کیسے لائیں وہ تو ہمارے ساتھ ہی نہیں۔انہوں نے کہا جب تک تم اسے نہیں لاؤ گے بات نہیں بنے گی۔چنانچہ وہ گئے اور اس احمدی کو خوب مارا اور کہنے لگے چل اور گواہی دے۔جب وہ باہر آیا تو کہنے لگے بتاؤ کیا ہم نے بھینس چرائی ہے؟ وہ کہنے لگا بھرائی تو ہے۔انہوں نے اسے پہلے تو گھورا۔پھر واپس آ کر خوب مارا اور کہنے لگے تم نے کچی گواہی کیوں دی ہے؟ وہ کہنے لگا جب بھینس مجھے نظر آ رہی تھی تو میں کیسے کہتا کہ تم نے کی