خطبات محمود (جلد 37) — Page 459
459 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 نے ان کے اثر کو قبول کر لیا اور تبلیغ ترک کر دی تو جو فائدہ اس وقت اسلام کو پہنچ رہا ہے وہ بھی چ جاتا رہے گا۔آپ یہ دیکھیں کہ ہم بھی انہی میں شامل تھے۔حضرت مرزا صاحب کے ماننے سے ہمارے اندر جوش پیدا ہوا اور ہم نے تبلیغ شروع کر دی۔ان کے اندر مل گئے تو ہمارا بھی جوش جاتا رہے گا اور اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔اس پر وہ بے ساختہ کہنے لگا میں اپنی بات واپس لیتا ہوں۔آپ اپنے لوگوں کو ہمارے پیچھے بالکل نماز نہ پڑھنے دیں۔کیونکہ اگر انہوں نے عام مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھی تو وہ واقع میں خراب ہو جائیں گے اور اُن کا اثر قبول کر لیں گے۔غرض قرآن کریم بتاتا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے ایک شخص بھی نظام دینی سے الگ ہو جائے تو ہم اُس کے بدلہ میں مسلمانوں کو ایک قوم دیا کرتے ہیں۔اس آیت کے مطابق اگر اقع میں احمدی مرتد ہیں تو پانچ لاکھ احمدیوں کے مقابلہ میں ایک ارب غیر مسلم مسلمانوں میں شامل ہونا چاہیے تھا یا کم سے کم پچاس لاکھ غیر مسلم ان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔مگر پچاس لاکھ تو توی جانے دو ان میں پانچ ہزار بھی نہیں آیا اور جو آیا ہے وہ بھی ہمارے ہاتھوں سے آیا ہے۔یعنی عیسائیوں اور ہندوؤں میں سے جو لوگ مسلمان ہوئے ہیں وہ بھی ہم مرتدوں کے ذریعہ ہی ہوئے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے یہ کہا تھا کہ ہم ان کے بدلہ میں لائیں گے یہ نہیں کہا تھا کہ ان کے ہاتھوں سے لائیں گے۔لیکن واقعہ یہ ہوا کہ ان مرتدوں کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ دوسری قوموں سے لوگوں کو اسلام کی طرف لا رہا ہے۔اور اگر جماعت احمدیہ کے افراد اپنے ایمانوں پر مضبوطی سے قائم رہے اور خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت ان کے شاملِ حال رہی تو برابر آتے چلے جائیں یہاں تک کہ وہ دن آ جائے گا کہ دنیا میں ایک ہی خدا ہو گا اور ایک ہی رسول۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی رسالت نہیں ہو گی اور خدائے واحد کے سوا کسی کو خدا کے نام سے یاد نہیں کیا جائے گا اور غیر مذاہب والے بالکل ادنیٰ قوموں کی سی حیثیت اختیار کرلیں گے۔لیکن اُس دن کے آنے کے لیے ضروری ہے کہ احمدی اپنے ایمان میں پکے ہوجائیں۔جوں جوں وہ اپنے ایمان میں پکے ہوتے چلے جائیں گے اللہ تعالی عیسائیوں اور ہندوؤں کو مسلمان بناتا چلا جائے گا اور اب بھی وہ انہی کے ہاتھوں سے انہیں مسلمان بنا رہا۔جس سے صاف طور پر پتا لگتا ہے کہ انہیں مرتد کہنے والے غلطی خوردہ ہیں۔ہم تو مرتد کو