خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 438

1956ء 438 خطبات محمود جلد نمبر 37 غزوہ حنین میں مکہ کے نئے مسلمان بھی شامل ہو گئے تھے اور ان میں بعض کافر بھی تھے۔ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ جائیں گے اور اپنی بہادری کے جوہر دکھا ئیں گے ۔ لیکن جب تیروں کی بوچھاڑ ہوئی تو وہ اس کی تاب نہ لا سکے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کے بھاگنے کی وجہ سے دوسرے مسلمانوں کے گھوڑے بھی بھاگ اُٹھے۔ اور ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد صرف چند مسلمان رہ گئے ۔ آپ جب دشمن کی صفوں کی طرف بڑھنے لگے تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا يَا رَسُولَ الله ! یہ وقت آگے بڑھنے کا نہیں دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور مسلمان لشکر تتر بتر ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا ابوبکر ! مجھے چھوڑ دو۔ پھر فرمایا أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ 4 میں خدا تعالیٰ کا نبی ہوں جھوٹا نہیں۔ اس لیے مجھے دشمن کا کوئی ڈر نہیں۔ آپ نے یہاں النبی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ” آنا نبی نہیں کہا کیونکہ النبی کے متعلق بائبل میں بھی پیشگوئیاں پائی جاتی تھیں کہ اُس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ چنانچہ یسعیاہ میں آتا ہے میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا۔ پس النبی کا لفظ استعمال فرما کر آپ نے بیان فرمایا کہ میں ہی وہ موعود نبی ہوں جس کی بائبل میں پیشگوئی کی گئی تھی۔ پھر مجھے کسی دشمن کا کیا خوف ہو سکتا ہے۔ لیکن میری اس جرات اور دلیری کی وجہ سے جو میں آٹھ ہزار تیراندازوں کی زد میں ہونے کے باوجود دکھا رہا ہوں دشمن جو بت پرست ہے یہ خیال نہ کرے کہ میں کوئی دیوتا یا خدا ہوں۔ بیشک میں ”النبی ہوں اور خدا تعالیٰ نے میری حفاظت کا وعدہ کیا ہے لیکن بایں ہمہ میں بشر ہی ہوں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں، خدا یا کوئی دیوتا نہیں ہوں۔ یہاں آپ نے ابنُ عَبْدِ المُطَّلِب “ کہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان میں ”ابن“ کا لفظ پوتے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ آپ حضرت عبدالمطلب کے پوتے تھے بیٹے نہیں تھے۔ غرض آپ کی جسمانی حفاظت کی بیسیوں مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ اگر میں انہیں بیان کروں تو کئی گھنٹوں میں خطبہ ختم ہو لیکن مختصر طور پر میں صرف اتنا کہوں گا کہ آپ کی زندگی میں بیسیوں دفعہ خطرناک