خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 437

437 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 وہ خود ہماری حفاظت کرے گا 2 اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔افسوس ہے کہ جب میں حج کے لیے گیا تو غار ثور کو نہ دیکھ سکا۔کیونکہ اگر میں اونچی اوی جگہ چڑھوں تو دل دھڑکنے لگتا ہے۔میں غار ثور سے ایک ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ تک تو پہنچ ہی گیا۔لیکن اس سے آگے نہ جا سکا۔غارثور ایک چٹیل پہاڑی پر واقع ہے اور نیچے بڑی گہری کھڑ ہے۔درخت بھی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں بھی بہت کم ہیں۔اس وجہ سے میرا دل کمزوری محسوس کرنے لگا میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ تم جا کر غار دیکھ آؤ اور واپس آ کر مجھے اس کی کیفیت سے آگاہ کرو۔چنانچہ وہ وہاں گئے۔واپس آ کر انہوں نے بتایا کہ یہاں سے فرلانگ ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر ایک چھوٹی سی غار ہے جس کا منہ تنور کی طرح ہے۔اُس کے قریب کچھ چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہیں۔اُس کے اندر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹا سا گڑھا ہے جہاں آدمی ٹھہر سکتا ہے۔مگر چونکہ اندھیرا تھا اس لیے اُس کا اندر سے پوری طرح جائزہ نہیں لیا جا سکا۔غارِ حرا میں نے دیکھی ہے بلکہ وہاں جا کر نماز بھی پڑھی ہے۔یوں تو اُس کا رستہ غارِ ثور کے رستہ سے زیادہ خطرناک ہے مگر جس پہاڑی پر غارِ حرا واقع ہے وہ چھوٹی ہے یعنی وہ زیادہ اونچی نہیں۔غار ثور والی پہاڑی زیادہ اونچی ہے اور پھر وہاں سے نیچے بڑی گہری کھڈ نظر آتی ہے ورنہ غار حرا کا رستہ زیادہ خطرناک ہے۔رستہ میں بڑے بڑے پتھر ہیں جن پر سے چھلانگیں لگا کر گزرنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود میں حرا پر چڑھ گیا اور غار ثور تک نہ جا سکا۔غار حرا دراصل غار نہیں بلکہ دو پتھر ہیں جو جڑے ہوئے ہیں۔ان پتھروں کے نیچے کھڑے ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔ہم نے بھی وہاں جا کر نماز پڑھی اور دعائیں کیں۔پھر ہجرت کے علاوہ اور بھی کئی مواقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو پورا کیا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔مثلاً غزوہ تحسین میں ایک موقع پر صحابہ دشمن کے دباؤ کی وجہ سے آپ سے دور چلے گئے۔اُس وقت آپ کے قریب ایک ایسا شخص تھا جو مکہ سے اسلامی لشکر کے ساتھ صرف اس نیت سے آیا تھا کہ اگر موقع ملا تو آپ کو مار ڈالے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور اُس دشمن کو اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہونے دیا 3۔